تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کہا کرتے تھے تم اس صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موت کا راستہ ایک ایسی گزرگاہ ہے جس پر سب رواں دواں ہیں۔ ﴿ وَمَاجَعَلْنَالِبَشَرٍمِّنْقَبْلِكَالْخُلْدَ ﴾”اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ سے پہلے بھی دنیا میں کسی بشر کو دائمی زندگی عطا نہیں کی۔“ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم موت سے ہم آغوش ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح دیگر رسول، انبیاء اور اولیاء بھی اسی راستے پر گامزن رہے ہیں جس کی منزل موت ہے۔ ﴿ اَفَاۡىِٕنْمِّؔتَّفَهُمُالْخٰؔلِدُوْنَ﴾ یعنی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا جائیں گے تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے تاکہ وہ اس دائمی زندگی سے لطف اندوز ہوں؟ معاملہ اس طرح نہیں (جس طرح انھوں نے سمجھ رکھا ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی زمین پر ہے اس کی منزل فنا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما كان أعداء الرسول يقولون: {نَتَرَبَّصُ به ريْبَ المنونِ}؛ قال الله تعالى: هذا طريقٌ مسلوكٌ ومعبدٌ منهوكٌ؛ فلم نجعل لبشر من قبلك يا محمد الخلدَ في الدُّنيا؛ فإذا متَّ؛ فسبيل أمثالك من الرسل والأنبياء والأولياء [وغيرهم]. {أفإن متَّ فهم الخالدون}؛ أي: فهل إذا متَّ؛ خلدوا بعدك، فليهنهم الخلود إذاً إن كان، وليس الأمر كذلك، بل كلُّ من عليها فان.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔