تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 25

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۲۵﴾
اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔ En
اور جو پیغمبر ہم نےتم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو
En
تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے متقدمین کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ اس مسئلے کی توضیح و تبیین کے بارے میں ان کی طرف رجوع کیا جائے، اس لیے اس مسئلہ کو اپنے اس ارشاد مقدس میں مکمل طور پر واضح فرما دیا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰ٘هَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آنے والے تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت اور ان کی کتابوں کا لب لباب اور مقصد ِ وحید، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم اور اس حقیقت کو کھول کر بیان کرنا ہے کہ صرف وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما حول تعالى على ذكر المتقدِّمين، وأمر بالرجوع إليها في بيان هذه المسألة؛ بيَّنها أتمَّ تبيينٍ في قوله: {وما أرسَلْنا من قبلِكَ من رسول إلاَّ نوحي إليه أنَّه لا إله إلاَّ أنا فاعبدونِ}: فكلُّ الرسل الذين من قبلك مع كتبِهِم زُبْدَةُ رسالتِهِم وأصلُها الأمرُ بعبادةِ الله وحدَه لا شريك له وبيانُ أنَّه الإله الحقُّ المعبودُ وأنَّ عبادة ما سواه باطلةٌ.