تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدْكَتَبْنَافِیالزَّبُوْرِ ﴾”اور ہم نے لکھا زبور میں۔“ اور وہ ہے لکھی ہوئی کتاب اور اس سے مراد ہے کتب الٰہیہ،مثلاً:تورات وغیرہ ﴿ مِنْۢبَعْدِالذِّكْرِ ﴾”ذکر (میں لکھنے) کے بعد۔“ یعنی ہم نے کتاب سابق لوح محفوظ یعنی ام الکتاب میں لکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتابوں میں لکھ دیا۔ تمام تقدیریں ام الکتاب کے موافق واقع ہوتی ہیں اور اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ﴿ اَنَّالْاَرْضَ ﴾”بلاشبہ زمین“ یعنی جنت کی زمین ﴿ یَرِثُ٘هَاعِبَادِیَالصّٰؔلِحُوْنَ ﴾”اس کے وارث ہوں گے میرے نیک بندے۔“ جو مامورات کو قائم اور منہیات سے اجتناب کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا قول نقل فرمایا: ﴿الْحَمْدُلِلّٰهِالَّذِیْصَدَقَنَاوَعْدَهٗوَاَوْرَثَنَاالْاَرْضَنَتَبَوَّاُمِنَالْؔجَنَّةِحَیْثُنَشَآءُ ﴾ (الزمر:39؍74) ”ہر قسم کی حمدوثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا اور ہمیں زمین کا وارث بنایا ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔“
اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ زمین سے مراد زمین کی خلافت ہو۔ اللہ تعالیٰ صالحین کو زمین میں اقتدار عطا کرے گا اور ان کو زمین کا والی بنائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَعَدَاللّٰهُالَّذِیْنَاٰمَنُوْامِنْكُمْوَعَمِلُواالصّٰؔلِحٰؔتِلَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْفِیالْاَرْضِكَمَااسْتَخْلَفَالَّذِیْنَمِنْقَبْلِهِمْ﴾ (النور:24؍55) ”اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے، جو ایمان لائیں گے اور نیک کام کریں گے کہ وہ ان کو اسی طرح زمین کی خلافت عطا کرے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو عطا کی تھی۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولقد كَتَبْنا في الزَّبورِ}: وهو الكتاب المزبور، والمرادُ الكتبُ المنزلة؛ كالتوراة، ونحوها، {من بعد الذِّكْرِ}؛ أي: كتبناه في الكتب المنزلة بعدما كَتَبْنَاه في الكتاب السابق الذي هو اللوح المحفوظ وأمِّ الكتاب الذي توافِقُه جميعُ التقادير المتأخِّرة عنه والمكتوب في ذلك: {أنَّ الأرض}؛ أي: أرض الجنَّة، {يَرِثُها عباديَ الصَّالحونَ}: الذين قاموا بالمأمورات، واجتنبوا المنهيَّات؛ فهم الذين يورِثُهم الله الجنات؛ كقول أهل الجنة: {الحمد لله الذي هدانا لهذا}، {وأورثنا الأرض نتبوأ من الجنة حيث نشاء}، ويُحتمل أنَّ المراد الاستخلاف في الأرض، وأنَّ الصالحين يمكِّنُ الله لهم في الأرض، ويولِّيهم عليها؛ كقوله تعالى: {وَعَدَ الله الذين آمنوا منكم وعَمِلوا الصالحاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ في الأرضِ كما اسْتَخْلَفَ الذين من قبلهم ... } الآية.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔