تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 103

لَا یَحۡزُنُہُمُ الۡفَزَعُ الۡاَکۡبَرُ وَ تَتَلَقّٰہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ؕ ہٰذَا یَوۡمُکُمُ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾
انھیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی اور انھیں (آگے سے) لینے کے لیے فرشتے آئیں گے۔ یہ ہے تمھارا وہ دن جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے۔ En
ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔ اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
En
وه بڑی گھبراہٹ (بھی) انہیں غمگین نہ کر سکے گی اور فرشتے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے، کہ یہی تمہارا وه دن ہے جس کا تم وعده دیئے جاتے رہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَا یَحْزُنُهُمُ الْ٘فَزَعُ الْاَكْبَرُ نہیں غم میں ڈالے گی انھیں بڑی گھبراہٹ۔ یعنی جب لوگ بہت زیادہ گھبراہٹ میں ہوں گے تو انھیں کسی قسم کا قلق نہ ہو گا اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔ جب جہنم کو قریب لایا جائے گا جہنم کفار اور نافرمان لوگوں پر سخت غضبناک ہو گی، اس بنا پر لوگ سخت گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے۔ مگر انھیں کوئی غم نہ ہو گا کیونکہ انھیں علم ہو گا کہ وہ اللہ کے پاس کیا لے کر حاضر ہوئے جائیں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس چیز سے مامون کر دیا ہے جس سے وہ ڈرتے تھے۔
﴿ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اور ہاتھوں ہاتھ لیں گے ان کو فرشتے۔ جب فرشتے ان کو ان کی قبروں سے اٹھائیں گے اور وہ نیک لوگوں کے پاس ان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے وفد کی صورت میں آئیں گے اور ان کو مبارک دیتے ہوئے کہیں گے: ﴿ هٰؔذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ لہٰذا تمھیں مبارک ہو وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے تم سے کیا ہے… تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عزت و تکریم تمھاری منتظر ہے اس پر تمھیں بہت زیادہ خوش ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں خوفناک اور ناپسندیدہ حالات سے تمھیں محفوظ و مامون رکھا ہے اس پر تمھیں بے پایاں فرحت اور سرور ہونا چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا يَحْزُنُهم الفزعُ الأكبرُ}؛ أي: لا يقلِقُهم إذا فزع الناس أكبر فزع، وذلك يوم القيامة، حين تقرب النار تتغيَّظ على الكافرين والعاصين، فيفزع الناسُ لذلك الأمر، وهؤلاء لا يحزُنُهم؛ لعلِمِهم بما يُقدِمون عليه، وأنَّ الله قد أمَّنهم مما يخافون. {وتتلقَّاهم الملائكةُ}: إذا بُعِثوا من قبورِهم وأتَوْا على النجائب وفداً لنشورِهم مهنِّئين لهم قائلين: {هذا يومُكُم الذي كنتُم توعَدون}: فليهنِكُم ما وعدكم الله، وليعظُم استبشاركُم بما أمامكم من الكرامة، وليكثر فَرَحُكم وسرورُكم بما أمنَّكم الله من المخاوف والمكاره.