تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 92

قَالَ یٰہٰرُوۡنُ مَا مَنَعَکَ اِذۡ رَاَیۡتَہُمۡ ضَلُّوۡۤا ﴿ۙ۹۲﴾
کہا اے ہارون! تجھے کس چیز نے روکا، جب تو نے انھیں دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں۔ En
(پھر موسیٰ نے ہارون سے) کہا کہ ہارون جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ گمراہ ہو رہے ہیں تو تم کو کس چیز نے روکا
En
موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے اے ہارون! انہیں گمراه ہوتا ہوا دیکھتے ہوئے تجھے کس چیز نے روکا تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ﴿ قَالَ یٰهٰؔرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤا اَلَّا تَ٘تَّ٘بِعَنِ اے ہارون! جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا؟ کہ آ کر تو مجھے خبر کر دیتا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آتا ﴿ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْکیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے ﴿اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَ٘تَّ٘بِـعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ (الاعراف:7؍142) تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر۔ موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فأقبل موسى على أخيه لائماً له، وقال: {يا هارونُ ما منعكَ إذْ رأيتَهم ضَلُّوا. أن لا تَتَّبِعَنِ}: فتخبِرَني لأبادِرَ للرُّجوع إليهم. {أفعصيتَ أمري}: في قولي: {اخلُفني في قومي وأصْلِحْ ولا تَتَّبِع سبيلَ المفسدين}: فأخذ موسى برأسِ هارون ولحيتِهِ يجرُّه من الغضب والعتب عليه.