تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ﴿ قَالَیٰهٰؔرُوْنُمَامَنَعَكَاِذْرَاَیْتَهُمْضَلُّوْۤااَلَّاتَ٘تَّ٘بِعَنِ﴾”اے ہارون! جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا؟“ کہ آ کر تو مجھے خبر کر دیتا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آتا ﴿ اَفَعَصَیْتَاَمْرِیْ ﴾کیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے ﴿اخْلُفْنِیْفِیْقَوْمِیْوَاَصْلِحْوَلَاتَ٘تَّ٘بِـعْسَبِیْلَالْمُفْسِدِیْنَ﴾ (الاعراف:7؍142) ”تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر۔“موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأقبل موسى على أخيه لائماً له، وقال: {يا هارونُ ما منعكَ إذْ رأيتَهم ضَلُّوا. أن لا تَتَّبِعَنِ}: فتخبِرَني لأبادِرَ للرُّجوع إليهم. {أفعصيتَ أمري}: في قولي: {اخلُفني في قومي وأصْلِحْ ولا تَتَّبِع سبيلَ المفسدين}: فأخذ موسى برأسِ هارون ولحيتِهِ يجرُّه من الغضب والعتب عليه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔