تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 9

وَ ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ مُوۡسٰی ۘ﴿۹﴾
اور کیا تیرے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ہے؟ En
اور کیا تمہیں موسیٰ (کے حال) کی خبر ملی ہے
En
تجھے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بھی معلوم ہے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفہام تقریری کے طور پر اور اس قصہء مذکورہ کی تعظیم اور عظمت کی خاطر، فرماتا ہے: ﴿ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰؔى کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات آئی؟ یعنی جناب موسیٰ علیہ السلام کی اس حالت کا قصہ، جو ان کی سعادت کی بنیاد اور ان کی نبوت کی ابتدا تھی کہ انھیں بہت دور سے آگ نظر آئی اور وہ راستے سے بھٹک گئے تھے اور سردی محسوس کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اپنے سفر میں گرمی حاصل کر سکیں۔ ﴿ اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا تو انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا، ذرا ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے اور یہ آگ کوہ طور کے دائیں جانب تھی۔ ﴿ لَّ٘عَ٘لِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّؔنْهَا بِقَ٘بَسٍ شاید میں تمھارے پاس اس میں سے ایک انگارہ لاؤں۔ تاکہ تم اس سے آگ تاپ سکو ﴿اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى یا اس آگ کے پاس مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے راستہ بتا دے۔ موسیٰ علیہ السلام کا مقصود تو حسی روشنی اور حسی ہدایت تھا۔ مگر انھوں نے وہاں معنوی نور یعنی نورِ وحی پا لیا۔ جس سے قلوب و ارواح روشن ہوتے ہیں اور انھیں حقیقی ہدایت یعنی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل ہوئی جو نعمتوں بھری جنت کو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ایسی چیز سے بہرہ ور ہوئے جو ان کے کسی حساب اور خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لنبيِّه محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - على وجه الاستفهام التقريريِّ والتعظيم لهذه القصَّة والتفخيم لها: {هل أتاك حديثُ موسى}: في حاله التي هي مبدأ سعادته ومنشأ نبوَّته؛ أنَّه رأى ناراً من بعيد، وكان قد ضلَّ الطريق، وأصابه البردُ، ولم يكنْ عنده ما يتدفَّأ به في سفره. فقال لأهلِهِ: {إني آنستُ}؛ أي: أبصرتُ {ناراً}: وكان ذلك في جانب الطور الأيمن. {لعلِّي آتيكُم منها بقَبَسٍ}: تصطلون به، {أو أجِدُ على النار هُدى}؛ أي: من يهديني الطريق. وكان مطلبُهُ النور الحسي والهداية الحسيَّة، فوجَدَ ثَمَّ النورَ المعنويَّ؛ نور الوحي الذي تستنير به الأرواح والقلوب، والهداية الحقيقيَّة؛ هداية الصراط المستقيم الموصلة إلى جنَّات النعيم، فحصل له أمرٌ لم يكنْ في حسابِهِ ولا خَطَر بباله.