وہ جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور تمھارے لیے اس میں راستے جاری کیے اور آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ کئی قسمیں مختلف نباتات سے نکالیں۔
En
وہ (وہی تو ہے) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے لئے رستے جاری کئے اور آسمان سے پانی برسایا۔ پھر اس سے انواع واقسام کی مختلف روئیدگیاں پیدا کیں
اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ہے اور اس میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے ہیں اور آسمان سے پانی بھی وہی برساتا ہے، پھر اس برسات کی وجہ سے مختلف قسم کی پیداوار بھی ہم ہی پیدا کرتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں اور احسانات کا ذکر کر کے اس دلیل قاطع کو ان پر لازم کر دیا، چنانچہ فرمایا: ﴿ الَّذِیْجَعَلَلَكُمُالْاَرْضَمَهْدًا ﴾ یعنی اس نے زمین کو تمھارے لیے بچھونا بنایا، تم اس سے سکون و قرار حاصل کرتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، زراعت کے لیے اس میں ہل چلاتے ہو اور ان تمام کاموں کے لیے زمین کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے اور وہ تمھارے لیے تمھارے فوائد اور مصالح فراہم کرنے سے انکار نہیں کرتی ﴿ وَّسَلَكَلَكُمْفِیْهَاسُبُلًا ﴾ یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچانے کے لیے تمھارے لیے زمین میں راستے بنائے یہاں تک کہ انسان تمام روئے زمین پر ہر جگہ آسانی سے پہنچنے پر قادر ہیں اور وہ اپنے گھروں میں قیام پذیر رہ کر جو فائدہ اٹھاتے ہیں اس کی نسبت اپنے سفروں میں زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔
﴿ وَّاَنْزَلَمِنَالسَّمَآءِمَآءً١ؕفَاَخْرَجْنَابِهٖۤاَزْوَاجًامِّنْنَّبَ٘اتٍشَتّٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی ﴿ فَاَحْیَابِهِالْاَرْضَبَعْدَمَوْتِهَا ﴾ (البقرۃ:2؍164) ”اور اس بارش سے زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا۔“ پھر اس بارش کے ذریعے سے مختلف انواع، مختلف اشکال اور مختلف احوال کے مطابق نباتات کی بہت سی اصناف پیدا کیں، پھر اس نباتات سے ہمارے لیے اور ہمارے مویشیوں کے لیے رزق فراہم کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو روئے زمین کے تمام انسان اور حیوان ہلاک ہو جاتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم استطرد في هذا الدليل القاطع بذكر كثيرٍ من نعمه وإحسانه الضروريِّ، فقال: {الذي جَعَلَ لكم الأرضَ مَهْداً}؛ أي: فراشاً بحالةٍ تتمكَّنون من السكون فيها والقرار والبناء والغراس وإثارتها للازدراع وغيره، وذلَّلها لذلك، ولم يجعلْها ممتنعةً عن مصلحةٍ من مصالحكم. {وسَلَكَ لكم فيها سُبُلاً}؛ أي: نفذ لكم الطرق الموصلة من أرض إلى أرض، ومن قطر إلى قطر، حتى كان الآدميونَ يتمكَّنون من الوصول إلى جميع الأرض بأسهل ما يكون، وينتفعونَ بأسفارِهم أكثر مما ينتفعون بإقامتهم. {وأنزلَ من السماءِ ماءً فأخرجْنا به أزواجاً من نباتٍ شتى}؛ أي: أنزل المطر، فأحيا به الأرض بعد موتها، وأنبت بذلك جميعَ أصناف النوابت على اختلاف أنواعها وتشتُّت أشكالها وتبايُنِ أحوالها، فساقَه وقدَّره ويسَّره رزقاً لنا ولأنعامنا، ولولا ذلك؛ لهلك مَنْ عليها من آدميٍّ وحيوانٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔