تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دین، وحی،رسالت اور قبولیت دعا سے نوازا… اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چنانچہ فرمایا: ﴿وَلَقَدْمَنَنَّاعَلَیْكَمَرَّةًاُخْرٰۤى ﴾”اور ہم نے تجھ پر احسان کیا دوسری مرتبہ“ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انھیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سخت خوف لاحق ہوا چنانچہ انھوں نے آپ کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا یعنی دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ وہ اس صندوق کو کنارے پر لگا دے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا کہ اس صندوق کو، اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن پکڑ لے اور اس کی اپنی اولاد کے ساتھ تربیت حاصل کرے اور جو کوئی اس کو دیکھے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔
اسی لیے فرمایا: ﴿ وَاَلْقَیْتُعَلَیْكَمَحَبَّةًمِّنِّیْ﴾”اور میں نے ڈال دی تجھ پر محبت اپنی طرف سے۔“ یعنی جو کوئی آپ کو دیکھتا محبت کرنے لگتا تھا۔ ﴿وَلِتُصْنَعَعَلٰىعَیْنِیْ ﴾ یعنی تاکہ تو میری آنکھوں کے سامنے، میری حفاظت میں تربیت حاصل کرے اور رحیم و کریم اللہ کی سرپرستی سے بڑھ کر کس کی کفالت اور دیکھ بھال جلیل القدر اور کامل ہو سکتی ہے، جو اپنے بندے کو اس کے مصالح عطا کرنے اور ضرر رساں امور کو اس سے دور کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے؟ پس موسیٰ علیہ السلام ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہی ان کی مصلحت کے مطابق ان کی تدبیر فرماتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر مِنَّته على عبده ورسوله موسى بن عمران في الدين والوحي والرسالة وإجابة سُؤْلِهِ؛ ذكر نعمته عليه وقتَ التربية والتنقُّلات في أطواره، فقال: {ولقد مَنَنَّا عليك مرةً أخرى}: حيث ألهمنا أمَّك أن تقذِفَك في التابوت وقت الرَّضاع خوفاً من فرعون؛ لأنَّه أمر بذبح أبناء بني إسرائيل، فأخفته أمُّه وخافت عليه خوفاً شديداً، فقذفَتْه في التابوت، ثم قذفتْه في اليمِّ؛ أي: شط نيل مصر، فأمر الله اليمَّ أن يُلقيه في الساحل، وقيَّض أنْ يأخذه أعدى الأعداء لله ولموسى، ويتربَّى في أولاده، ويكون قرَّة عينٍ لمن رآه، ولهذا قال: {وألقيتُ عليك محبَّةً منِّي}؛ فكلُّ من رآه أحبَّه. {ولِتُصْنَعَ على عيني}؛ أي: ولتتربَّى على نظري وفي حفظي وكلاءتي، وأيُّ نظر وكفالة أجلُّ وأكمل من ولاية البَرِّ الرحيم القادر على إيصال مصالح عبده ودفع المضارِّ عنه؛ فلا ينتقلُ من حالةٍ إلى حالةٍ إلاَّ والله تعالى هو الذي دبَّر ذلك لمصلحة موسى!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔