تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 35

اِنَّکَ کُنۡتَ بِنَا بَصِیۡرًا ﴿۳۵﴾
بے شک تو ہمیشہ ہمارے حال کو خوب دیکھنے والا رہا ہے۔ En
تو ہم کو (ہر حال میں) دیکھ رہا ہے
En
بیشک تو ہمیں خوب دیکھنے بھالنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّك كنتَ بنا بصيراً}: تعلمُ حالنا وضعفنا وعَجْزَنا وافتقارَنا إليك في كلِّ الأمور، وأنت أبصرُ بنا من أنفسنا وأرحم؛ فمُنَّ علينا بما سألناك، وأجب لنا فيما دعوناك.