تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 29

وَ اجۡعَلۡ لِّیۡ وَزِیۡرًا مِّنۡ اَہۡلِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾
اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک بوجھ بٹانے والا بنادے۔ En
اور میرے گھر والوں میں سے (ایک کو) میرا وزیر (یعنی مددگار) مقرر فرما
En
اور میرا وزیر میرے کنبے میں سے کر دے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْ٘لِیْ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هٰؔرُوْنَ اَخِی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واجعل لي وزيراً من أهلي}؛ أي: عويناً يعاونني ويؤازرني ويساعدني على من أرسِلْتُ إليهم، وسأل أن يكون من أهلِهِ؛ لأنه من باب البرِّ، وأحقُّ ببر الإنسان قرابتُهُ. ثم عيَّنه بسؤاله، فقال: {هارونَ أخي}.