تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 27

وَ احۡلُلۡ عُقۡدَۃً مِّنۡ لِّسَانِیۡ ﴿ۙ۲۷﴾
اور میری زبان کی کچھ گرہ کھول دے۔ En
اور میری زبان کی گرہ کھول دے
En
اور میری زبان کی گره بھی کھول دے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ۰۰ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِیْ هٰؔرُوْنُ هُوَ اَفْ٘صَحُ مِنِّیْ لِسَانًا (القصص:28؍34) اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واحلُلْ عقدةً من لساني. يَفْقَهوا قولي}: وكان في لسانه ثِقَلٌ لا يكاد يُفْهَمُ عنه الكلام كما قال المفسِّرون؛ كما قال الله عنه: إنَّه قال: {وأخي هارونَ هو أفصحُ مني لساناً}، فسأل الله أن يَحُلَّ منه عقدةً؛ يفقهوا ما يقولُ، فيحصل المقصود التامُّ من المخاطبة والمراجعة والبيان عن المعاني.