تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 21

قَالَ خُذۡہَا وَ لَا تَخَفۡ ٝ سَنُعِیۡدُہَا سِیۡرَتَہَا الۡاُوۡلٰی ﴿۲۱﴾
فرمایا اسے پکڑ اور ڈر نہیں، عنقریب ہم اسے اس کی پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ En
خدا نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو اور ڈرنا مت۔ ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے
En
فرمایا بے خوف ہو کر اسے پکڑ لے، ہم اسے اسی پہلی سی صورت میں دوباره ﻻ دیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس سانپ کا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ حرکت کرتا تھا یہ ایک وہم کے ازالے کے لیے تھا جو ممکن تھا کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سب تخیل کی کارفرمائی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ پس اس کے حرکت کرنے نے اس وہم کا ازالہ کر دیا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: ﴿ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ اسے پکڑ لے اور مت ڈر یعنی اس سے تجھ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ ﴿ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى یعنی ہم اسے اس کی اصلی ہیئت اور صفت کی طرف لوٹا دیں گے جو عصا کی ہوتی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ایمان اور تسلیم و رضا سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور سانپ کو پکڑ لیا اور سانپ اسی جانے پہچانے عصا میں تبدیل ہو گیا۔ یہ (پہلا) معجزہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال الله لموسى: {خُذْها ولا تَخَفْ}؛ أي: ليس عليك منها بأسٌ، {سنعيدُها سيرتها الأولى}؛ أي: هيئتها وصفتها؛ إذ كانت عصا، فامتثل موسى أمر الله إيماناً به وتسليماً، فأخذها، فعادت عصاه التي كان يعرفها. هذه آيةٌ.