تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 15

اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ اَکَادُ اُخۡفِیۡہَا لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰی ﴿۱۵﴾
یقینا قیامت آنے والی ہے، میں قریب ہوں کہ اسے چھپا کر رکھوں، تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔ En
قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلا پائے
En
قیامت یقیناً آنے والی ہے جسے میں پوشیده رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وه بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ یعنی قیامت کی گھڑی کا واقع ہونا لازمی امر ہے۔ ﴿ اَكَادُ اُخْفِیْهَا یعنی قیامت کی گھڑی خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپی ہوئی ہے، جیسا کہ بعض قراء ت میں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے: ﴿ یَسْـَٔؔلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُ٘لْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ (الاحزاب:33؍63) آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔ اور فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ (لقمان:31؍34) قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم کو تمام مخلوقات سے چھپا رکھا ہے قیامت کے بارے میں کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبی ٔ مرسل۔
اور قیامت کے آنے کی حکمت یہ ہے کہ ﴿ لِتُجْزٰى كُ٘لُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَ٘سْعٰى ہر شخص نے جو بھلے یا برے اعمال میں بھاگ دوڑ کی ہے اس کو ان کی جزا دی جائے کیونکہ قیامت دارالجزا کا دروازہ ہے۔ ﴿ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰى (النجم:53؍31) تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے، انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنھوں نے نیک کام کیے ان کو اچھا بدلہ دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ الساعة آتيةٌ}؛ أي: لا بدَّ من وقوعها، {أكاد أخفيها}؛ أي: عن نفسي؛ كما في بعض القراءَات؛ كقوله تعالى: {يسألونك عن الساعةِ قلْ إنَّما علمُها عند الله}، وقال: {وعنده علمُ الساعةِ}؛ فعلمُها قد أخفاه عن الخلائق كلِّهم؛ فلا يعلمها مَلَكٌ مقرَّبٌ ولا نبيٌّ مرسل، والحكمة في إتيان الساعة: {لِتُجْزى كلُّ نفس بما تَسْعى}: من الخير والشرِّ؛ فهي الباب لدار الجزاء، {ليَجزيَ الذين أساؤوا بما عَمِلوا ويَجْزيَ الذين أحسَنوا بالحُسْنى}.