فرمایا تم دونوں اکٹھے اس سے اتر جائو، تم میں سے بعض بعض کا دشمن ہے، پھر اگر کبھی واقعی تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جس نے میری ہدایت کی پوری طرح پیروی کی تو نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ مصیبت میں پڑے گا۔
En
فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے نیچے اتر جاؤ۔ تم میں بعض بعض کے دشمن (ہوں گے) پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا
فرمایا، تم دونوں یہاں سےاتر جاؤ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو، اب تمہارے پاس کبھی میری طرف سے ہدایت پہنچے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے نہ تو وه بہکے گا نہ تکلیف میں پڑے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے آدم علیہ السلام اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ ز مین پر اتر جائیں، آدم اور ان کی اولاد شیطان کو اپنا دشمن سمجھیں اور اس سے بچیں اس کا مقابلہ کرنے اور جنگ کے لیے تیار رہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر کتابیں نازل کرے گا ان کی طرف رسول بھیجے گا جو ان کے سامنے صراط مستقیم کو واضح کریں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز وہ ان کو ان کے دشمن سے متنبہ اور چوکنا کریں گے، لہٰذا ان کے پاس جس وقت بھی یہ ہدایت آ جائے… یعنی کتاب اور انبیاء و مرسلین… پس اگر کسی نے اس کتاب کی اتباع کی، ان امور پر عمل کیا جن کا اس نے حکم دیا اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اس نے منع کیا تو ایسا شخص دنیا میں گمراہ ہو گا نہ آخرت میں اور نہ وہ دنیا و آخرت میں تکلیف میں پڑے گا بلکہ دونوں جہاں میں ان کی سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کی جائے گی اور آخرت میں ان کو امن اور سعادت سے نوازا جائے گا۔ ایک اور آیت کریمہ میں وارد ہے کہ آخرت میں حزن و خوف ان سے دور رہے گا۔ ﴿فَ٘مَنْتَ٘بِـعَهُدَایَفَلَاخَوْفٌعَلَیْهِمْوَلَاهُمْیَحْزَنُوْنَ﴾ (البقرۃ:2؍38) ”پس جس کسی نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔“ اور ”ہدایت“ کی پیروی یہ ہے کہ رسول کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی جائے، شبہات کے ذریعے سے اس کے ساتھ معارضہ نہ کیا جائے، اس کے حکم کی اس طرح تعمیل کی جائے کہ کسی قسم کی خواہش اس کی معارض نہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه أمر آدم وإبليس أن يَهْبِطا إلى الأرض، وأن يتَّخذوا الشيطان عدوًّا لهم، فيأخذوا الحذر منه، ويُعِدُّوا له عدَّته، ويحارِبوه، وأنَّه سيُنْزِل عليهم كتباً ويرسل إليهم رسلاً يبيِّنون لهم الطريق المستقيم الموصلة إليه وإلى جنته، ويحذِّرونهم من هذا العدوِّ المبين، وأنَّهم أيَّ وقتٍ جاءهم ذلك الهدى الذي هو الكتب والرسل؛ فإنَّ من اتَّبعه؛ اتَّبع ما أمِرَ به، واجتنب ما نُهِيَ عنه؛ فإنَّه لا يضلُّ في الدُّنيا ولا في الآخرة ولا يشقى فيهما، بل قد هُدِيَ إلى صراط مستقيم في الدُّنيا والآخرة، وله السعادة والأمن في الآخرة. وقد نفى عنه الخوف والحزن في آية أخرى بقوله: {فَمَن تَبِعَ هُدايَ فلا خوفٌ عليهم ولا هُمْ يَحْزَنونَ}، واتِّباع الهدى بتصديق الخبرِ وعدم معارضتِهِ بالشُّبه، وامتثال الأمرِ بأن لا يعارِضَه بشهوة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔