تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 101

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہِ ؕ وَ سَآءَ لَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ حِمۡلًا ﴿۱۰۱﴾ۙ
ہمیشہ اس میں رہنے والے ہوں گے اور وہ ان کے لیے قیامت کے دن برا بوجھ ہوگا۔ En
(ایسے لوگ) ہمیشہ اس (عذاب) میں (مبتلا) رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لئے برا ہے
En
جس میں ہمیشہ ہی رہے گا، اور ان کے لئے قیامت کے دن (بڑا) برا بوجھ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهِ یعنی وہ اپنے گناہ کے بوجھ اٹھانے کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے کیونکہ (برے) اعمال ہی درحقیقت عذاب ہیں۔ یہ اعمال بد صغیرہ یا کبیرہ ہونے کے مطابق، ارتکاب کرنے والوں کے لیے عذاب میں بدل جاتے ہیں۔ ﴿ وَسَآءَؔ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًا یعنی بہت برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے اور بہت برا عذاب ہے جو انھیں قیامت کے روز بھگتنا ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{خالدين فيه}؛ أي: في وِزْرهم؛ لأنَّ العذاب هو نفس الأعمال، تنقلب عذاباً على أصحابها بحسب صغرها وكبرها، {وساءَ لهم يومَ القيامةِ حِمْلاً}؛ أي: بئس الحملُ الذي يحمِلونه والعذابُ الذي يعذَّبونه يوم القيامة.