تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 86

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا بِالۡاٰخِرَۃِ ۫ فَلَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمُ الۡعَذَابُ وَ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿٪۸۶﴾
یہی لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے خریدی، سو نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ En
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ سو نہ تو ان سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو (اور طرح کی) مدد ملے گی
En
یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا ہے، ان کے نہ تو عذاب ہلکے ہوں گے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چنانچہ فرمایا: ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا یعنی انھیں وہم لاحق تھا کہ اگر انھوں نے اپنے حلیفوں کی مدد نہ کی تو یہ عار کی بات ہے پس انھوں نے عار کے بدلے میں آگ کو چن لیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ پس ان سے عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا یعنی عذاب کی شدت ہمیشہ رہے گی اور کسی وقت بھی انھیں راحت نصیب نہ ہو گی ﴿ وَلَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ اور نہ ان کی مدد کی جائے گی یعنی ان سے عذاب کو نہیں ہٹایا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك الذين اشتروا الحياة الدنيا بالآخرة}؛ توهموا أنهم إن لم يعينوا حلفاءهم حصل لهم عار فاختاروا النار على العار، فلهذا قال: {فلا يخفف عنهم العذاب}؛ بل هو باقٍ على شدته، ولا يحصل لهم راحة بوقت من الأوقات {ولا هم ينصرون}؛ أي: يدفع عنهم مكروه.