تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَمِنْهُمْ﴾”اور کچھ ان میں سے“ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمِّیُّوْنَ﴾ ان پڑھ عوام بھی ہیں جو اہل علم میں شمار نہیں ﴿ لَایَعْلَمُوْنَالْكِتٰبَاِلَّاۤاَمَانِیَّ﴾ سوائے تلاوت کے، اللہ کی کتاب میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ ان کے پاس اس چیز کی خبر بھی نہیں جو پہلوں کے پاس تھی جن کے حالات یہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کے پاس محض ظن اور گمان اور اہل علم کی تقلید کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں اہل کتاب کے علماء، عوام اور منافقین اور وہ جنھوں نے نفاق اختیار نہیں کیا، سب کا ذکر کیا ہے۔ پس ان کے علماء اپنی گمراہی کے موقف پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں اور عوام بصیرت سے محروم ہیں اور ان علماء کی تقلید کرتے ہیں۔ پس ان دونوں گروہوں کے بارے میں تمھیں کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ومنهم}؛ أي: من أهل الكتاب {أميون}؛ أي: عوام، وليسوا من أهل العلم {لا يعلمون الكتاب إلا أماني}؛ أي: ليس لهم حظ من كتاب الله إلا التلاوة فقط، وليس عندهم خبر بما عند الأولين الذين يعلمون حق المعرفة حالهم، وهؤلاء إنما معهم ظنون وتقاليد لأهل العلم منهم.
فذكر في هذه الآيات علماءهم وعوامهم ومنافقيهم ومن لم ينافق منهم، فالعلماء منهم متمسكون بما هم عليه من الضلال، والعوام مقلدون لهم، لا بصيرة عندهم؛ فلا مطمع لكم في الطائفتين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔