اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لائے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب ان میں سے بعض بعض کی طرف اکیلا ہوتا ہے تو کہتے ہیں کیا تم انھیں وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں، تاکہ وہ ان کے ساتھ تمھارے رب کے پاس تم سے جھگڑا کریں، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟
En
اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے، وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو اپنی ایمانداری ﻇاہر کرتے ہیں اور جب آپس میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو کیوں وه باتیں پہنچاتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں سکھائی ہیں، کیا جانتے نہیں کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے پاس تم پر ان کی حجت ہوجائے گی
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اہل کتاب کے منافقین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذَالَقُواالَّذِیْنَاٰمَنُوْاقَالُوْۤااٰمَنَّا﴾”جب وہ ایمان والوں کو ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔“ یعنی انھوں نے اپنی زبان سے ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کیا جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ ﴿ وَاِذَاخَلَابَعْضُهُؔمْاِلٰىبَعْضٍ﴾ یعنی جب وہ خلوت میں ہوتے ہیں اور ان کے ہم مذہبوں کے سوا ان کے پاس کوئی اور نہیں ہوتا تو وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿ اَتُحَدِّثُ٘وْنَهُمْبِمَافَ٘تَحَاللّٰهُعَلَیْكُمْ ﴾”کیا تم ان کو وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں۔“ یعنی کیا تم ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہو اور انھیں بتاتے ہو کہ تم ان کی مانند ہو؟ پس یہ چیز ان کے لیے تمھارے خلاف حجت بن جائے گی۔ وہ (یعنی اہل ایمان) کہیں گے کہ انھوں نے اقرار کیا کہ اہل ایمان حق پر ہیں اور جس پر وہ ہیں، وہ باطل ہے۔ پس اہل ایمان اپنے رب کے پاس تمھارے خلاف دلیل دیں گے ﴿ اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ﴾”کیا پس تم سمجھتے نہیں؟“ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ کیا تم عقل سے عاری ہو کہ تم ان کے پاس وہ چیز چھوڑ رہے ہو جو تمھارے خلاف حجت ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر حال منافقي أهل الكتاب، فقال: {وإذا لقوا الذين آمنوا قالوا آمنا}، فأظهروا لهم الإيمان قولاً بألسنتهم ما ليس في قلوبهم، {وإذا خلا بعضهم إلى بعض}؛ فلم يكن عندهم أحد من غير أهل دينهم قال بعضهم لبعض: {أتحدثونهم بما فتح الله عليكم}؛ أي: أتظهرون لهم الإيمان وتخبرونهم أنكم مثلهم؟ فيكون ذلك حجة لهم عليكم، يقولون إنهم قد أقروا بأن ما نحن عليه حق وما هم عليه باطل، فيحتجون عليكم بذلك عند ربكم {أفلا تعقلون}؛ أي: أفلا يكون لكم عقل فتتركون ما هو حجة عليكم؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔