تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 72

وَ اِذۡ قَتَلۡتُمۡ نَفۡسًا فَادّٰرَءۡتُمۡ فِیۡہَا ؕ وَ اللّٰہُ مُخۡرِجٌ مَّا کُنۡتُمۡ تَکۡتُمُوۡنَ ﴿ۚ۷۲﴾
اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا، پھر تم نے اس کے بارے میں جھگڑا کیا اور اللہ اس بات کو نکالنے والا تھا جو تم چھپا رہے تھے۔ En
اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا، تو اس میں باہم جھگڑنے لگے۔ لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے، خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا
En
جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈاﻻ، پھر اس میں اختلاف کرنے لگے اور تمہاری پوشیدگی کو اللہ تعالیٰ ﻇاہر کرنے واﻻ تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب انھوں نے گائے ذبح کر ڈالی تو ہم نے ان سے کہا کہ گائے کا ایک عضو اس مقتول کو لگاؤ۔ اس سے مراد کوئی معین عضو ہے یا کوئی سا بھی عضو؟ اس کے تعین کا کوئی فائدہ نہیں۔ بس انھوں نے گائے کے کسی حصے کو مقتول کے ساتھ لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو ظاہر کر دیا جسے وہ چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں باخبر کر دیا کہ قاتل کون ہے۔ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا اس مقتول کو دوبارہ زندہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے مردوں کو زندہ کرے گا۔ ﴿ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَؔ شاید کہ تم عقل سے کام لو اور ان کاموں سے رک جاؤ جو تمھارے لیے نقصان دہ ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما ذبحوها قلنا لهم اضربوا القتيل ببعضها، أي: بعضو منها إما بعضو معين أو أي عضو منها فليس في تعيينه فائدة؛ فضربوه ببعضها؛ فأحياه الله، وأخرج ما كانوا يكتمون؛ فأخبر بقاتله، وكان في إحيائه - وهم يشاهدون - ما يدل على إحياء الله الموتى، لعلكم تعقلون؛ فتنزجرون عن ما يضركم.