اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا تو ہم نے کہا اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار، تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، بلاشبہ سب لوگوں نے اپنی پینے کی جگہ معلوم کر لی، کھاؤ اور پیو اللہ کے دیے ہوئے میں سے اور زمین میں فساد کرتے ہوئے دنگا نہ مچاؤ۔
En
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی ﻻٹھی پتھر پر مارو، جس سے باره چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروه نے اپنا چشمہ پہچان لیا (اور ہم نے کہہ دیا کہ) اللہ تعالیٰ کا رزق کھاؤ پیو اورزمین میں فساد نہ کرتے پھرو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے لیے پانی مانگا تاکہ وہ اس پانی کو پینے کے لیے استعمال کر سکیں ﴿فَقُلْنَااضْرِبْبِّعَصَاکَالْحَجَرَ﴾”تو ہم نے کہا، اپنی لاٹھی پتھر پر مار۔“ یہاں ”الْحَجَرَ“ کے معرفہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یا تو یہ کوئی مخصوص پتھر تھا جسے حضرت موسیٰ علیہ السلام جانتے تھے یا اسم جنس کی بنا پر معرفہ ہے۔ ﴿فَانْفَجَرَتْمِنْہُاثْنَتَاعَشْرَۃَعَیْنًا﴾”پس اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے“ اور بنی اسرائیل کے بھی بارہ قبیلے تھے۔ ﴿قَدْعَلِمَکُلُّاُنَاسٍمَّشْرَبَھُمْ﴾ یعنی ہر ایک قبیلے نے اپنی وہ جگہ معلوم کر لی جہاں انھوں نے ان چشموں سے پانی پینا ہے تاکہ وہ پانی پیتے وقت ایک دوسرے کے مزاحم نہ ہوں، بلکہ وہ بغیر کسی تکدر کے خوش گواری کے ساتھ پانی پئیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿کُلُوْاوَاشْرَبُوْامِنْرِّزْقِاللّٰہِ﴾ یعنی وہ رزق جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں بغیر کوشش اور جدوجہد کے عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ پیؤ ﴿وَلَاتَعْثَوْافِیالْاَرْضِمُفْسِدِیْنَ﴾ یعنی فساد پھیلانے کی خاطر زمین کو مت اجاڑو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{استسقى}؛ أي: طلب لهم ماء يشربون منه {فقلنا اضرب بعصاك الحجر}؛ إما حجر مخصوص معلوم عنده، وإما اسم جنس؛ {فانفجرت منه اثنتا عشرة عيناً}؛ وقبائل بني إسرائيل اثنتا عشرة قبيلة، {قد علم كل أناس}؛ منهم {مشربهم}؛ أي: محلهم الذي يشربون عليه من هذه الأعين، فلا يزاحم بعضهم بعضاً بل يشربونه متهنئين لا متكدرين، ولهذا قال: {كلوا واشربوا من رزق الله}؛ أي: الذي آتاكم من غير سعي ولا تعب {ولا تعثوا في الأرض}؛ أي: تخربوا على وجه الإفساد.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔