تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ جنھوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا یعنی کفر کی صفات سے متصف ہوئے اور کفر کے رنگ میں اس طرح رنگ گئے کہ کفر ان کا وصف لازم بن گیا جس سے کوئی ہٹانے والا ان کو ہٹا نہیں سکتا اور نہ کوئی نصیحت ان پر کارگر ہو سکتی ہے۔ وہ اپنے کفر میں راسخ اور اس پر جمے ہوئے ہیں لہٰذا ان کے لیے برابر ہے تم انھیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔
حقیقت میں کفر اس تعلیم یا اس کے بعض حصے کا انکار کرنے کا نام ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔ پس ان کفار کو کوئی دعوت فائدہ نہیں دیتی البتہ اس دعوت سے ان پر حجت ضرور قائم ہو جاتی ہے۔ اس آیت میں گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس امید کو ختم کر دیا گیا جو آپ کو ان کے ایمان لانے کی تھی اور فرما دیا گیا کہ آپ ان کے ایمان نہ لانے پر غمزدہ نہ ہوں اور ان کفار کے ایمان نہ لانے پر افسوس اور حسرت کے مارے آپ ہلکان نہ ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى {إن الذين كفروا}، أي: اتصفوا بالكفر وانصبغوا به، وصار وصفاً لهم لازماً لا يردعهم عنه رادع، ولا ينجع فيهم وعظ أنهم مستمرون على كفرهم، فسواء عليهم {أأنذرتهم أم لم تنذرهم لا يؤمنون}. وحقيقة الكفر هو الجحود لما جاء به الرسول أو جحد بعضه، فهؤلاء الكفار لا تفيدهم الدعوة إلا إقامة الحجة عليهم، وكأن في هذا قطعاً لطمع الرسول - صلى الله عليه وسلم - في إيمانهم وأنك لا تأس عليهم، ولا تذهب نفسك عليهم حسرات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔