تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 55

وَ اِذۡ قُلۡتُمۡ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتۡکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿۵۵﴾
اور جب تم نے کہا اے موسیٰ! ہم ہرگز تیرا یقین نہ کریں گے، یہاں تک کہ ہم اللہ کو کھلم کھلا دیکھ لیں، تو تمھیں کڑک نے پکڑ لیا اور تم دیکھ رہے تھے۔ En
اور جب تم نے (موسیٰ) سے کہا کہ موسیٰ، جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں گے، تم پر ایمان نہیں لائیں گے، تو تم کو بجلی نے آ گھیرا اور تم دیکھ رہے تھے
En
اور (تم اسے بھی یاد کرو) تم نے (حضرت) موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ سے کہا تھا کہ جب تک ہم اپنے رب کو سامنے نہ دیکھ لیں ہرگز ایمان نہ ﻻئیں گے (جس گستاخی کی سزا میں) تم پر تمہارے دیکھتے ہوئے بجلی گری En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِذْ قُلْتُمْ یَامُوْسٰی لَنْ نُؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَھْرَۃً اور جب تم نے کہا، اے موسیٰ، ہم ہرگز تیری بات کا یقین نہیں کریں گے، یہاں تک کہ ہم اللہ کو سامنے دیکھ لیں یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقابلے میں تمھاری جرأت کی انتہا تھی ﴿ فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰؔعِقَةُ پس تمھیں بے ہوشی نے آ لیا (اس بے ہوشی سے مراد) یا تو موت ہے یا عظیم بے ہوشی ہے ﴿وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ تم اس تمام واقعہ کو دیکھ رہے تھے، ہر شخص اپنے ساتھی کو دیکھ رہا تھا
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإذ قلتم يا موسى لن نؤمن لك حتى نرى الله جهرة}؛ وهذا غاية الجرأة على الله وعلى رسوله، {فأخذتكم الصاعقة}؛ إما الموت أو الغشية العظيمة {وأنتم تنظرون}؛ وقوع ذلك كل ينظر إلى صاحبه.