اور (تم اسے بھی یاد کرو) تم نے (حضرت) موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ سے کہا تھا کہ جب تک ہم اپنے رب کو سامنے نہ دیکھ لیں ہرگز ایمان نہ ﻻئیں گے (جس گستاخی کی سزا میں) تم پر تمہارے دیکھتے ہوئے بجلی گری
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاِذْقُلْتُمْیَامُوْسٰیلَنْنُؤْمِنَلَکَحَتّٰینَرَیاللّٰہَجَھْرَۃً﴾”اور جب تم نے کہا، اے موسیٰ، ہم ہرگز تیری بات کا یقین نہیں کریں گے، یہاں تک کہ ہم اللہ کو سامنے دیکھ لیں“ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقابلے میں تمھاری جرأت کی انتہا تھی ﴿ فَاَخَذَتْكُمُالصّٰؔعِقَةُ ﴾ پس تمھیں بے ہوشی نے آ لیا (اس بے ہوشی سے مراد) یا تو موت ہے یا عظیم بے ہوشی ہے ﴿وَاَنْتُمْتَنْظُرُوْنَ﴾ تم اس تمام واقعہ کو دیکھ رہے تھے، ہر شخص اپنے ساتھی کو دیکھ رہا تھا
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذ قلتم يا موسى لن نؤمن لك حتى نرى الله جهرة}؛ وهذا غاية الجرأة على الله وعلى رسوله، {فأخذتكم الصاعقة}؛ إما الموت أو الغشية العظيمة {وأنتم تنظرون}؛ وقوع ذلك كل ينظر إلى صاحبه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔