تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 46

الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمۡ وَ اَنَّہُمۡ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿٪۴۶﴾
جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ En
اور جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
En
جو جانتے ہیں کہ بے شک وه اپنے رب سے ملاقات کرنے والے اور یقیناً وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿الَّذِیْنَؔ یَظُنُّوْنَ یعنی جو یقین کرتے ہیں ﴿ؔ اَنَّهُمْ مُّلٰ٘قُوْا رَبِّهِمْ کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کریں گے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا ﴿ وَاَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰؔؔجِعُوْنَ اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹیں گے اس یقین نے ان کے لیے عبادات کو آسان کر دیا ہے۔ یہی یقین مصائب میں ان کے لیے تسلی کا موجب ہوتا ہے، تکالیف کو ان سے دور کرتا ہے اور برے کاموں سے انھیں روکتا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے بلند بالا خانوں میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ملاقات پر ایمان نہیں رکھتا اس کے لیے نماز اور دیگر عبادات سب سے زیادہ شاق گزرنے والی چیزیں ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{الذين يظنون}؛ أي يستيقنون {أنهم ملاقو ربهم}؛ فيجازيهم بأعمالهم، {وأنهم إليه راجعون}؛ فهذا الذي خفف عليهم العبادات وأوجب لهم التسلي في المصيبات ونفس عنهم الكربات وزجرهم عن فعل السيئات، فهؤلاء لهم النعيمُ المقيمُ في الغرفاتِ العالياتِ، وأما من لم يؤمن بلقاء ربه كانت الصلاة وغيرها من العبادات من أشق شيء عليه.