تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 43

وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ارۡکَعُوۡا مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ En
اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰة دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو
En
اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ یعنی (ظاہری اور باطنی طور پر) نماز قائم کرو۔ ﴿وَاٰتُوْا الزَّکٰوۃَ یعنی (مستحقین کو) زکو ۃ دو۔ ﴿وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ یعنی نماز پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھو۔ جب تم نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور آیات الٰہی پر ایمان رکھتے ہوئے ان افعال کو سرانجام دیا تو یقیناً تم نے اعمال ظاہرہ اور اعمال باطنہ کو، معبود کے لیے اخلاص اور اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو اور عبادات قلبیہ اور عبادات بدنیہ اور مالیہ کو جمع کر لیا۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَاْرکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ رکوع کرنے والوں کے ساتھ مل کر رکوع کرو، کے معنی یہ ہیں کہ نماز پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھو۔ پس اس آیت کریمہ میں باجماعت نماز کا حکم اور جماعت کے وجوب کا اثبات ہے اور یہ کہ رکوع نماز کا رکن ہے کیونکہ یہاں نماز کو رکوع سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور عبادت کو اس کے کسی جزو سے تعبیر کرنا عبادت میں اس جزو کی فرضیت کی دلیل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال: {وأقيموا الصلاة}؛ أي: ظاهراً وباطناً {وآتوا الزكاة}؛ مستحقيها، {واركعوا مع الراكعين}؛ أي: صلوا مع المصلين، فإنكم إذا فعلتم ذلك مع الإيمان برسل الله وآيات الله، فقد جمعتم بين الأعمال الظاهرة والباطنة، وبين الإخلاص للمعبود والإحسان إلى عبيده، وبين العبادات القلبية والبدنية والمالية، وقوله: {واركعوا مع الراكعين}؛ أي: صلوا مع المصلين، ففيه، الأمر بالجماعة للصلاة، ووجوبها، وفيه، أن الركوع ركن من أركان الصلاة، لأنه عبر عن الصلاة بالركوع، والتعبير عن العبادة بجزئها يدل على فرضيته فيها.