تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 4

وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾
اور وہ جو اس پر ایمان لاتے ہیں جو تیری طرف اتارا گیا اور جو تجھ سے پہلے اتارا گیا اور آخرت پر وہی یقین رکھتے ہیں۔ En
اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں
En
اور جو لوگ ایمان ﻻتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا، اور وه آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَالَّذِیْنَ یُوْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْکَ اور وہ لوگ جو یقین رکھتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اس سے مراد قرآن اور سنت ہے اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿وَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ (النساء4؍113) اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت (یعنی سنت) نازل کی۔ پس اصحاب تقویٰ ان تمام چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی میں تفریق نہیں کرتے کہ اس کے کسی حصے پر تو ایمان لے آئیں اور کسی حصے پر اپنے انکار یا ایسی تاویل کے ذریعے سے جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہ ہو، ایمان نہ لائیں۔ جیسا کہ اہل بدعت کا وتیرہ ہے جو قرآن و سنت کی ان نصوص کی تاویل کرتے ہیں جو ان کے قول کے خلاف ہوتی ہیں جو کہ درحقیقت ان نصوص کے معانی کی تصدیق نہیں ہے وہ اگرچہ ان نصوص کے ظاہری الفاظ کی تصدیق کرتے ہیں مگر ان پر حقیقی طور پر ایمان نہیں لاتے۔
﴿وَمَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ اور اس پر جو آپ سے پہلے اتارا گیا یہ آیت کریمہ گزشتہ تمام کتابوں پر ایمان رکھنے پر مشتمل ہے اور گزشتہ کتابوں پر ایمان لانا اس بات کو متضمن ہے کہ انبیائے سابقین پر ایمان لایا جائے۔ نیز ان حقائق پر ایمان لایا جائے جن پر یہ الہامی کتابیں خاص طور پر تورات، انجیل اور زبور مشتمل ہیں۔ یہ اہل ایمان کی خصوصیت ہے کہ وہ تمام کتب سماویہ اور تمام انبیاء و مرسلین پر ایمان لاتے ہیں ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔
﴿وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں آخرت ان تمام امور کا نام ہے جو مرنے کے بعد انسان کو پیش آئیں گے۔ عمومی ایمان کے ذکر کے بعد آخرت پر ایمان کو خاص طور پر ذکر کیا ہے، کیونکہ آخرت پر ایمان لانا ارکان ایمان میں سے ایک اہم رکن ہے، نیز آخرت پر ایمان رغبت، خوف اور اعمال صالحہ کا باعث ہے۔ اور (یقین) ایسے علم کامل کو کہتے ہیں جس میں ادنیٰ سا بھی شک نہ ہو۔ یقین عمل کا موجب ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال: {والذين يؤمنون بما أنزل إليك} وهو: القرآن والسنة، قال تعالى: {وأنزل الله عليك الكتاب والحكمة} فالمتقون يؤمنون بجميع ما جاء به الرسول ولا يفرقون بين بعض ما أنزل إليه، فيؤمنون ببعضه، ولا يؤمنون ببعضه، إما بجحده، أو تأويله على غير مراد الله ورسوله، كما يفعل ذلك من يفعله من المبتدعة الذين يؤولون النصوص الدالة على خلاف قولهم بما حاصله عدم التصديق بمعناها وإن صدقوا بلفظها، فلم يؤمنوا بها إيماناً حقيقيًّا. وقوله: {وما أنزل من قبلك} يشمل الإيمان بجميع الكتب السابقة، ويتضمن الإيمانُ بالكتب الإيمان بالرسل وبما اشتملت عليه خصوصاً التوراة والإنجيل والزبور، وهذه خاصية المؤمنين يؤمنون بالكتب السماوية كلها وبجميع الرسل فلا يفرقون بين أحد منهم.

ثم قال: {وبالآخرة هم يوقنون} والآخرة: اسم لما يكون بعد الموت، وخصه بالذكر بعد العموم؛ لأن الإيمان باليوم الآخر أحد أركان الإيمان؛ ولأنه أعظم باعث على الرغبة والرهبة والعمل، واليقين هو: العلم التام، الذي ليس فيه أدنى شك، الموجب للعمل.