تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 39

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿٪۳۹﴾
اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہ دوزخ میں جانے والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے
En
اور جو انکار کرکے ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، وه جہنمی ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

لہٰذا جو کوئی بھی اس کی ہدایت کی پیروی کرتا ہے اسے امن، دنیاوی اور اخروی سعادت اور ہدایت حاصل ہوتی ہے اور ہر تکلیف دہ چیز یعنی حزن و خوف اور ضلالت و شقاوت اس سے دور کر دی جاتی ہے۔ ہر مرغوب چیز اسے عطا کر دی جاتی ہے اور خوف زدہ کرنے والی چیز اس سے دور ہٹا دی جاتی ہے۔
اس کے برعکس اس شخص کا معاملہ ہو گا جس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی نہ کی، پس اس کا انکار کیا اور اس کی آیات کو جھٹلایا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰؔبُ النَّارِ یہی لوگ جہنمی ہیں یعنی جہنم ان کے لیے لازم ہے۔ جیسے ساتھی دوسرے ساتھی سے اور قرض خواہ مقروض سے چمٹا رہتا ہے۔ ﴿ هُمْ فِیْهَا خٰؔلِدُوْنَ وہ اس جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ کبھی اس سے باہر نہیں نکلیں گے جہنم کا عذاب کبھی ان سے کم نہ ہو گا اور نہ ان کو کوئی مدد پہنچے گی۔
ان آیات کریمہ اور ان جیسی دیگر آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخلوق میں سے تمام جن و انس اہل سعادت اور اہل شقاوت کی اقسام میں منقسم ہیں۔ ان آیات میں دونوں فریقوں کی صفات اور ان اعمال کا ذکر کیا گیا ہے جو سعادت یا شقاوت کے موجب ہیں۔ ان آیات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جن ثواب و عقاب کے معاملے میں انسانوں کی طرح ہیں جس طرح وہ ان کی مانند امر و نہی کے مکلف ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وكذلك: نفي الضلال والشقاء عمن اتبع هداه، وإذا انتفيا ثبت ضدهما، وهو الهدى والسعادة، فمن اتبع هداه حصل له الأمن والسعادة الدنيوية والأخروية والهدى وانتفى عنه كل مكروه من الخوف والحزن والضلال والشقاء؛ فحصل له المرغوب واندفع عنه المرهوب، وهذا عكس من لم يتبع هداه فكفر به وكذب بآياته؛ فأولئك أصحاب النار، أي: الملازمون لها ملازمة الصاحب لصاحبه، والغريم لغريمه {هم فيها خالدون} لا يخرجون منها ولا يفتر عنهم العذاب ولا هم ينصرون.

وفي هذه الآيات، وما أشبهها انقسام الخلق من الجن والإنس إلى أهل السعادة، وأهل الشقاوة، وفيها صفات الفريقين والأعمال الموجبة لذلك، وأن الجن كالإنس في الثواب والعقاب، كما أنهم مثلهم في الأمر والنهي.