تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 284

لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡہُ یُحَاسِبۡکُمۡ بِہِ اللّٰہُ ؕ فَیَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۸۴﴾
اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھار ے دلوں میں ہے، یا اسے چھپائو اللہ تم سے اس کا حساب لے گا، پھر جسے چاہے گابخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا، اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
En
آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے۔ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ﻇاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تعالیٰ اس کا حساب تم سے لے گا۔ پھر جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ سب کو اسی نے پیدا کیا، رزق دیا، ان کے دینی اور دنیوی فوائد کا بندوبست فرمایا۔ چنانچہ وہ سب اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں۔ وہ اپنی ذات کے لیے نفع کا اختیار رکھتے ہیں نہ نقصان کا، نہ موت کا نہ حیات کا، نہ مر کر جینے کا۔ وہ ان کا رب ہے، ان کا مالک ہے، جو اپنی حکمت، عدل اور احسان کے مطابق ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اس نے انھیں کچھ کاموں کاحکم دیاہے، کچھ کاموں سے منع فرمایا۔ لہٰذا وہ ان سے اس کے ظاہر اور پوشیدہ اعمال کا حساب لے گا۔ ﴿ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ پھر جسے چاہے گا بخشے گا۔ یعنی جس کے پاس مغفرت کے اسباب موجود ہوں گے۔ ﴿ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ اور جسے چاہے گا سزا دے گا۔ اسے ان گناہوں کی سزا ملے گی، جن کی معافی کے اسباب حاصل نہیں ہوئے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ کوئی چیز اس کے بس سے باہر نہیں۔ بلکہ تمام مخلوقات اس کے غلبہ، مشیت، تقدیر اور جزا و سزا کے قوانین کے ماتحت ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى بعموم ملكه لأهل السماء والأرض وإحاطة علمه بما أبداه العباد وما أخفوه في أنفسهم، وأنه سيحاسبهم به {فيغفر لمن يشاء} وهو المنيب إلى ربه الأواب إليه، {إنه كان للأوابين غفوراً}؛ {ويعذب من يشاء} وهو المصر على المعاصي في باطنه وظاهره، وهذه الآية لا تنافي الأحاديث الواردة في العفو عما حدَّث به العبد نفسه ما لم يعمل أو يتكلم ، فتلك الخطرات التي تتحدث بها النفوس التي لا يتصف بها العبد ولا يصمم عليها، وأما هنا فهي العزائم المصممة والأوصاف الثابتة في النفوس، أوصاف الخير وأوصاف الشر، ولهذا قال: {ما في أنفسكم}؛ أي: استقر فيها وثبت من العزائم والأوصاف. وأخبر أنه {على كل شيء قدير}؛ فمن تمام قدرته محاسبة الخلائق وإيصال ما يستحقونه من الثواب والعقاب.