تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 276

یَمۡحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَ یُرۡبِی الصَّدَقٰتِ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیۡمٍ ﴿۲۷۶﴾
اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ایسے شخص سے محبت نہیں رکھتا جو سخت نا شکرا، سخت گناہ گار ہو۔ En
خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا
En
اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے اور گنہگار سے محبت نہیں کرتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس کے بعد فرمایا: ﴿ یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰؔوا اللہ سود کو مٹاتا ہے۔ یعنی اسے بھی اور اس کی برکت کو بھی ذاتی اور صفاتی طورپر ختم کرتا ہے۔ یہ آفات کا باعث بنتا ہے اور برکت چھن جانے کا سبب ہوتاہے۔ اگر اس (حرام کمائی) سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اسے اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، بلکہ یہ اسے جہنم میں لے جائے گا۔ ﴿ وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ یعنی جس مال سے صدقہ دیا جائے اس میں برکت نازل فرماتا ہے اور ثواب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جزا و سزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ سود خور لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور ان کے مال غیر شرعی طریقے سے لیتا ہے اس لیے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کامال تباہ ہوجائے اور جو شخص لوگوں پر کسی بھی انداز سے احسان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ سخی ہے۔ جس طرح اس شخص نے اس کے بندوں پر احسان کیا ہے، اللہ بھی اس پر احسان کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُ٘لَّ كَفَّارٍ اور اللہ نہیں دوست رکھتا کسی ناشکرے کو۔ جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے واجب کیے ہوئے صدقے اور زکاۃ ادا نہیں کرتا، اور اللہ کے بندے اس کے شر سے محفوظ نہیں۔ ﴿ اَثِیْمٍ اور گناہ گار کو یعنی اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے جو اسے سزا ملنے کا باعث ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أخبر تعالى أنه يمحق مكاسب المرابين ويربي صدقات المنفقين، عكس ما يتبادر لأذهان كثير من الخلق أن الإنفاق ينقص المال وأن الربا يزيده، فإن مادة الرزق وحصول ثمراته من الله تعالى، وما عند الله لا ينال إلا بطاعته وامتثال أمره، فالمتجرئ على الربا يعاقبه بنقيض مقصوده، وهذا مشاهد بالتجربة ومن أصدق من الله قيلاً {والله لا يحب كل كفار أثيم}؛ وهو الذي كفر نعمة الله، وجحد منَّة ربه وأثم بإصراره على معاصيه.

ومفهوم الآية أن الله يحب من كان شكوراً على النعماء تائباً من المآثم والذنوب. ثم أدخل هذه الآية بين آيات الربا وهي قوله: