تیرے ذمے انھیں ہدایت دینا نہیں اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو گے سو تمھارے اپنے ہی لیے ہے اور تم خرچ نہیں کرتے مگر اللہ کا چہرہ طلب کرنے کے لیے اور تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو گے وہ تمھیں پورا ادا کیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
En
(اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا،
انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے۔ تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ مخلوق کو ہدایت پر چلا دینا آپ کی ذمہ داری نہیں۔ آپ کا فرض صرف یہ ہے کہ حق کو واضح طورپر ان تک پہنچا دیں۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح مسلمان پر واجب ہے کہ صدقہ و خیرات اور دوسرے اخراجات کرے، اسی طرح کافر پر بھی یہ واجب ہے، اگرچہ اس نے ہدایت قبول نہ کی ہو، اس لیے فرمایا: ﴿ وَمَاتُنْفِقُوْامِنْخَیْرٍ ﴾”تم جو کچھ مال خرچ کرو گے۔“ کم ہو یا زیادہ اور خرچ کرنے والا مسلمان ہو یا کافر: ﴿ فَلِاَنْفُسِكُمْ۠ ﴾”اس کا فائدہ خود پاؤ گے۔“﴿ وَمَاتُنْفِقُوْنَاِلَّاابْتِغَآءَؔوَجْهِاللّٰهِ ﴾”اور تم صرف اللہ کی رضامندی کی طلب کے لیے خرچ کرتے ہو۔“ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ مومنوں کے خرچ کی بنیاد ایمان ہوتی ہے اور وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا ایمان انھیں فضول مقاصد کے لیے کام کرنے سے منع کرتا ہے اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَمَاتُنْفِقُوْامِنْخَیْرٍیُّوَفَّاِلَیْكُمْ ﴾”تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمھیں دیا جائے گا۔“ یعنی قیامت کے دن تم پورا اجر وثواب حاصل کرو گے۔ ﴿ وَاَنْتُمْلَاتُظْلَمُوْنَ ﴾”اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ تمھارے نیک عملوںمیں ذرہ برابر کمی نہیں کی جائے گی، اور تمھارے گناہوں میں بلاوجہ اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: إنما عليك أيها الرسول البلاغ وحث الناس على الخير وزجرهم عن الشرِّ، وأما الهداية فبيد الله تعالى.
ويخبر عن المؤمنين حقاً أنهم لا ينفقون إلا لطلب مرضاة ربهم واحتساب ثوابه لأن إيمانهم يدعوهم إلى ذلك، فهذا خير وتزكية للمؤمنين، ويتضمن التذكير لهم بالإخلاص، وكرَّر علمه تعالى بنفقاتهم لإعلامهم أنه لا يضيع عنده مثقال ذرة وإن تك حسنة يضاعفها، ويؤت من لدنه أجراً عظيماً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔