جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، پھر انھوں نے جو خرچ کیا اس کے پیچھے نہ کسی طرح کا احسان جتلانا لگاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچانا، ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، اور ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
En
جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں نہ ایذا دیتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ان پر نہ تو کچھ خوف ہے نہ وه اداس ہوں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جو لوگ اپنے مال اللہ کی فرماں برداری کے کاموں میں اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایسے کام نہیں کرتے جن سے عمل میں نقص واقع ہوجائے یا عمل ضائع ہوجائے۔ یعنی جس کو دیا ہے اس پر زبان سے یا دل سے احسان نہیں دھرتے، مثلاً اپنے احسانات گن گن کر بتانا اور اس کے بدلے ان سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا، نہ زبانی یا عملی طورپر ایذا دیتے ہیں، تو ان کو وہ ثواب ملے گا جو ان کے شایان شان ہوگا۔ انھیں کوئی خوف یا غم بھی لاحق نہیں ہوگا۔ لہٰذا انھیں ہر خیر حاصل ہوجائے گی اور ہر برائی ان سے دور ہوجائے گی۔ کیونکہ انھوں نے اللہ کے لیے ایسی نیکی کی تھی، جو ضائع کرنے والے اسباب سے پاک تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أيضاً ذكر ثواباً آخر للمنفقين أموالهم في سبيله نفقة صادرة مستوفية لشروطها منتفية موانعها، فلا يتبعون المنفق عليه، منًّا منهم عليه وتعداداً للنعم وأذية له قولية أو فعلية فهؤلاء {لهم أجرهم عند ربهم}؛ بحسب ما يعلمه منهم وبحسب نفقاتهم ونفعها وبفضله الذي لا تناله ولا تصل إليه صدقاتهم، {ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون}؛ فنفى عنهم المكروه الماضي بنفي الحزن، والمستقبل بنفي الخوف عليهم فقد حصل لهم المحبوب واندفع عنهم المكروه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔