بے شک اللہ اس سے نہیں شرماتا کہ کوئی بھی مثال بیان کرے، مچھر کی ہو، پھر اس کی جو اس سے اوپر ہے، پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے سو جانتے ہیں کہ وہی ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور رہے وہ جنھوں نے کفر کیا تو وہ کہتے ہیں اللہ نے اس کے ساتھ مثال دینے سے کیا ارادہ کیا؟ وہ اس کے ساتھ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور اس کے ساتھ بہتوں کو ہدایت دیتا ہے اور وہ اس کے ساتھ فاسقوں کے سوا کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔
En
الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نافرمانوں ہی کو
یقیناً اللہ تعالیٰ کسی مثال کے بیان کرنے سے نہیں شرماتا، خواه مچھر کی ہو، یا اس سے بھی ہلکی چیز کی۔ ایمان والے تو اسے اپنے رب کی جانب سے صحیح سمجھتے ہیں اور کفار کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ نے کیا مراد لی ہے؟ اس کے ذریعے بیشتر کو گمراه کرتا ہے اور اکثر لوگوں کو راه راست پر ﻻتا ہے اور گمراه تو صرف فاسقوں کو ہی کرتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنَّاللّٰهَلَایَسْتَحْیٖۤاَنْیَّضْرِبَمَثَلًامَّا ﴾”اللہ تعالیٰ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی سی بھی مثال بیان کرے“ خواہ وہ کسی قسم کی مثال ہو ﴿بَعُوْضَۃًفَمَافَوْقَھَا﴾”مچھر کی ہو یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہو“ کیونکہ مثال حکمت اور ایضاح حق پر مبنی ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا۔ اس آیت کریمہ میں گویا اس شخص کو جواب دیا گیا ہے جو معمولی اور حقیر اشیاء کی مثال دینے کا منکر ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرتا ہے، پس یہ اعتراض کا مقام نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو تعلیم دینا اور ان کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرنا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ اسے شکر کرتے ہوئے قبول کیا جائے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ فَاَمَّاالَّذِیْنَاٰمَنُوْافَیَعْلَمُوْنَاَنَّهُالْ٘حَقُّمِنْرَّبِّهِمْ ﴾”پس وہ لوگ جو ایمان لائے تو وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے“ پس وہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ پس اگر انھیں اس کے مشمولات کا تفصیلی علم حاصل ہو جاتا ہے تو ان کے علم و ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ورنہ انھیں معلوم ہے کہ یہ حق ہے اور حق باتوں پر ہی مشتمل ہے اور اگر اس میں حق کا پہلو ان پر مخفی رہے تب بھی انھیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بے فائدہ بیان نہیں فرمایا، بلکہ اس میں یقینا کوئی حکمت بالغہ اور نعمت کاملہ مضمر ہے۔
﴿ وَاَمَّاالَّذِیْنَكَفَرُوْافَیَقُوْلُوْنَمَاذَاۤاَرَادَاللّٰهُبِهٰؔذَامَثَلًا﴾”لیکن کافر لوگ، تو وہ کہتے ہیں، اللہ نے اس مثال سے کیا چاہا ہے؟“ یعنی کافر حیران ہو کر اعتراض کرتے ہیں اور اپنے کفر میں اور اضافہ کر لیتے ہیں جیسے اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یُضِلُّبِهٖكَثِیْرًاوَّیَهْدِیْبِهٖكَثِیْرًا﴾”وہ اس سے بہتوں کو گمراہ کرتا اور بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے“ پس آیات قرآن کے نزول کے وقت یہ اہل ایمان اور کفار کا حال ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَامَاۤاُنْزِلَتْسُوْرَةٌفَمِنْهُمْمَّنْیَّقُوْلُاَیُّكُمْزَادَتْهُهٰؔذِهٖۤاِیْمَانًا١ۚفَاَمَّاالَّذِیْنَاٰمَنُوْافَزَادَتْهُمْاِیْمَانًاوَّهُمْیَسْتَبْشِرُوْنَ۠۰۰وَاَمَّاالَّذِیْنَفِیْقُلُوْبِهِمْمَّرَضٌفَزَادَتْهُمْرِجْسًااِلٰىرِجْسِهِمْوَمَاتُوْاوَهُمْكٰفِرُوْنَ﴾ (التوبہ: 9؍125،124) ”جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے بعض تمسخر کے طور پر کہتے ہیں اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے؟ جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان تو اس سورت نے زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں اور جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے تو اس سورت نے ان کی گندگی میں گندگی کو اور زیادہ کر دیا اور وہ کفر کی حالت ہی میں مر گئے۔“ پس بندوں پر قرآنی آیات کے نزول سے بڑھ کر اور کوئی نعمت نہیں۔
اس کے باوجود یہ قرآنی آیات کچھ لوگوں کے لیے آزمائش، حیرت اور گمراہی اور ان کے شر میں اضافے کا باعث بنتی ہیں اور کچھ لوگوں کے لیے انعام، رحمت اور ان کی بھلائیوں میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں کے درمیان تفاوت قائم کیا۔ صرف وہی ہے جو ہدایت سے نوازتا ہے اور وہی ہے جو گمراہ کرتا ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس عدل و حکمت کا ذکر کیا ہے جو اس شخص کی گمراہی میں کارفرما ہوتی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے۔
﴿ وَمَایُضِلُّبِهٖۤاِلَّاالْ٘فٰسِقِیْنَ﴾ یعنی وہ صرف ان ہی لوگوں کو گمراہ کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کے رسولوں سے عناد رکھتے ہیں، فسق و فجور ان کا وصف بن گیا ہے اور وہ اس وصف کو بدلنا نہیں چاہتے۔ پس اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے فضل کا یہ تقاضا ہوا کہ وہ ان کو گمراہی میں مبتلا کرے کیونکہ ان میں ہدایت کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ جیسے اس کی حکمت اور اس کا فضل اس شخص کی ہدایت کا تقاضا کرتے ہیں جو ایمان سے متصف اور اعمال صالحہ سے مزین ہو۔
فسق کی دو اقسام ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو انسان کو دائرۂ اسلام ہی سے خارج کر دیتی ہے۔ فسق کی یہ قسم ایمان سے خارج ہونے کا تقاضا کرتی ہے جیسا کہ اس آیت میں اور اس قسم کی دیگر آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔
فسق کی دوسری قسم وہ ہے جو انسان کو دائرہ ایمان سے خارج نہیں کرتی جیسا کہ اس آیت کریمہ میں وارد ہوا ہے:﴿ یٰۤاَیُّهَاالَّذِیْنَاٰمَنُوْۤااِنْجَآءَكُمْفَاسِقٌۢبِنَبَاٍفَتَبَیَّنُوْۤا﴾ (الحجرات: 49؍6) ”اے ایمان والو! اگر تمھارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {إن الله لا يستحيي أن يضرب مثلاً ما}؛ أيْ: أيُّ مثل كان {بعوضة فما فوقها}؛ لاشتمال الأمثال على الحكمة وإيضاح الحق، والله لا يستحيي من الحق، وكأنّ في هذا جواباً لمن أنكر ضرب الأمثال في الأشياء الحقيرة، واعترض على الله في ذلك؛ فليس في ذلك محل اعتراض، بل هو من تعليم الله لعباده ورحمته بهم، فيجب أن تتلقى بالقبول والشكر، ولهذا قال: {فأما الذين آمنوا فيعلمون أنه الحق من ربهم}؛ فيفهمونها ويتفكرون فيها، فإن علموا ما اشتملت عليه على وجه التفصيل ازداد بذلك علمهم وإيمانهم، وإلا علموا أنها حق، وما اشتملت عليه حق، وإن خفي عليهم وجه الحق فيها، لعلمهم بأن الله لم يضربها عبثاً بل لحكمة بالغة ونعمة سابغة، {وأما الذين كفروا فيقولون ماذا أراد الله بهذا مثلاً}؛ فيعترضون ويتحيرون فيزدادون كفراً إلى كفرهم كما ازداد المؤمنون إيماناً على إيمانهم؛ ولهذا قال: {يضل به كثيراً ويهدي به كثيراً}؛ فهذه حال المؤمنين والكافرين عند نزول الآيات القرآنية، قال تعالى: {وإذا ما أنزلت سورة فمنهم من يقول أيكم زادته هذه إيماناً، فأما الذين آمنوا فزادتهم إيماناً وهم يستبشرون. وأما الذين في قلوبهم مرض فزادتهم رجساً إلى رجسهم وماتوا وهم كافرون}؛ فلا أعظم نعمة على العباد من نزول الآيات القرآنية، ومع هذا تكون لقوم محنة وحيرة وضلالة وزيادة شر إلى شرهم، ولقوم منحة ورحمة وزيادة خير إلى خيرهم، فسبحان من فاوت بين عباده، وانفرد بالهداية والإضلال.
ثم ذكر حكمته وعدله في إضلاله من يضل ؛ فقال: {وما يضل به إلا الفاسقين}؛ أي: الخارجين عن طاعة الله المعاندين لرسل الله الذين صار الفسق وصفهم؛ فلا يبغون به بدلاً، فاقتضت حكمته تعالى إضلالهم؛ لعدم صلاحيتهم للهدى، كما اقتضى فضله وحكمته هداية من اتصف بالإيمان وتحلى بالأعمال الصالحة.
والفسق نوعان: نوع مخرج من الدين وهو الفسق المقتضي للخروج من الإيمان كالمذكور في هذه الآية ونحوها، ونوع غير مخرج من الإيمان كما في قوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بنبأ فتبينوا ... }؛ الآية.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔