تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 239

فَاِنۡ خِفۡتُمۡ فَرِجَالًا اَوۡ رُکۡبَانًا ۚ فَاِذَاۤ اَمِنۡتُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۳۹﴾
پھر اگر تم ڈرو تو پیدل پڑھ لو یا سوار، پھر جب امن میں ہو جائو تو اللہ کو یاد کرو جیسے اس نے تمھیں سکھایا ہے، جو تم نہیں جانتے تھے۔ En
اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار (جس حال میں ہو نماز پڑھ لو) پھر جب امن (واطمینان) ہوجائے تو جس طریق سے خدا نے تم کو سکھایا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے خدا کو یاد کرو
En
اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہی یا سوار ہی سہی، ہاں جب امن ہوجائے تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح کہ اس نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر فرمایا: ﴿ فَاِنْ خِفْتُمْ اگر تمھیں خوف ہو۔ خوف والی چیز کا ذکر نہیں فرمایا، تاکہ اس میں کافر سے، ظالم سے اور درندے سے خوف اور دوسرے تمام اقسام کے خوف شامل ہوجائیں۔ یعنی ان حالات میں نماز پڑھتے ہوئے اگر تم خوف محسوس کرو تو ﴿ فَرِجَالًا پیدل ہی یعنی چلتے چلتے نماز پڑھ لو ﴿ اَوْ رُؔكْبَانًا سوار ہوکر ہی سہی یا گھوڑوں اونٹوں وغیرہ پر، اس طرح نماز پڑھنے سے یہ لازم آتا ہے کہ کبھی ان کا رخ قبلہ کی طرف ہو اور کبھی نہ ہو۔ اس سے بروقت نماز پڑھنے کی مزید تاکید ظاہر ہوتی ہے، کہ بہت سے ارکان اور بہت سی شروط میں خلل پڑجانے کے باوجود نماز وقت پر پڑھو۔ اس نازک وقت میں بھی نماز میں تاخیر کرنا جائز نہیں۔ ان حالات میں اس طریقے سے نماز پڑھنا افضل ہے، بلکہ تاخیر کرکے اطمینان کے ساتھ نماز پڑھنے سے اس طریقے سے وقت پر نماز پڑھ لینا زیادہ ضروری ہے۔ ﴿ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ پھر جب تم امن میں آجاؤ۔ یعنی خوف ختم ہوجائے ﴿ فَاذْكُرُوا اللّٰهَؔ تو اللہ کا ذکر کرو۔ اس میں ذکر کی ہر قسم شامل ہے۔ اور کامل نماز پڑھنا بھی اس ذکر کی ایک صورت ہے۔ ﴿ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ جس طرح اس نے تمھیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے۔ اس لیے کہ یہ ایک عظیم نعمت ہے، جس کے عوض ذکر اور شکر کرنا چاہیے، تاکہ تم پر اس کی نعمت باقی رہے اور اس میں اضافہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {فإن خفتم}؛ حذف المتعلق ليعم الخوف من العدو والسبع وفواتِ ما يتضرر العبد بفوته فصلوا {رجالاً}؛ ماشين على أرجلكم، {أو ركباناً}؛ على الخيل والإبل وسائر المركوبات، وفي هذه الحال لا يلزمه الاستقبال. فهذه صفة صلاة المعذور بالخوف فإذا حصل الأمن صلى صلاة كاملة ويدخل في قوله: {فإذا أمنتم فاذكروا الله}؛ تكميل الصلوات، ويدخل فيه أيضاً الإكثار من ذكر الله شكراً له على نعمة الأمن وعلى نعمة التعليم لما فيه سعادة العبد.

وفي الآية الكريمة فضيلة العلم وأن على من علمه الله ما لم يكن يعلم الإكثارَ من ذكر الله، وفيه الإشعارُ أيضاً أن الإكثار من ذكره سبب لتعليم علوم أخر لأن الشكر مقرون بالمزيد. ثم قال تعالى: