اور جب تم عورتوں کو طلاق دو، پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انھیں اس سے نہ روکو کہ وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کرلیں، جب وہ آ پس میں اچھے طریقے سے راضی ہو جائیں۔ یہ بات ہے جس کی نصیحت تم میں سے اس کو کی جاتی ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ تمھارے لیے زیادہ ستھرا اور زیادہ پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
En
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وه اپنی عدت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وه آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں۔ یہ نصیحت انہیں کی جاتی ہے جنہیں تم میں سے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر یقین وایمان ہو، اس میں تمہاری بہترین صفائی اور پاکیزگی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ خطاب اس مطلقہ عورت کے سرپرستوں سے ہے جسے تین سے کم طلاق دی گئی ہو، عدت پوری ہونے کے بعد اس کا خاوند اس سے دوبارہ نکاح کاخواہاں ہو اور وہ عورت بھی اس نکاح پر راضی ہو تو اس عورت کے ولی کے لیے خواہ وہ باپ ہو یا کوئی اور، جائز نہیں کہ اسے نکاح کرنے سے روکے، یعنی پہلی طلاق پر اپنے غصہ، بغض اور نفرت کی بنا پر، میاں بیوی کو نکاح کی تجدید سے منع نہ کرے۔ اور بیان کیا کہ تم میں سے جو کوئی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کا ایمان اسے ان دونوں کو نکاح کرنے سے روکنے سے منع کرتا ہے، کیونکہ عورت کا اپنے خاوند کے ساتھ تجدید نکاح تمھارے لیے اس سے زیادہ پاک اور بہتر ہے جو عورت کا ولی سمجھتا ہے کہ عدم نکاح درست رائے ہے اور نکاح سے روکنا (انتقاماً) پہلی طلاق کا جواب ہے۔ جیسا کہ متکبر اور نام نہاد اونچے گھرانوں کے لوگوں کی عادت ہے۔ پس اگر ولی یہ سمجھتا ہے کہ عدم نکاح ہی میں میاں بیوی کی مصلحت ہے تو ﴿ وَاللّٰهُیَعْلَمُوَاَنْتُمْلَاتَعْلَمُوْنَ ﴾”اسے اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔“ پس اس ہستی کی اطاعت کرو جو تمھارے مصالح کا تم سے زیادہ علم رکھتی ہے، وہ تمھارے لیے یہ مصالح چاہتی ہے، وہ ان پر قادر ہے اور ان کو تمھارے لیے اس طرح آسان بناتی ہے جن کو تم خوب جانتے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ نکاح میں ولی کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اولیاء (یعنی سرپرستوں) کو عورتوں کے نکاح سے روکنے سے منع کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بندوں کو اسی چیز سے روکتا ہے جو ان کی تدبیر کے تحت آتی ہو اس میں ان کا حق ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا خطاب لأولياء المرأة المطلقة دون الثلاث إذا خرجت من العدة وأراد زوجها أن ينكحها ورضيت بذلك فلا يجوز لوليها من أب وغيره أن يعضلها أي يمنعها من التزوج به حنقاً عليه وغضباً واشمئزازاً لما فعل من الطلاق الأول، وذكر أن من كان يؤمن بالله واليوم الآخر؛ فإيمانه يمنعه من العضل، ذلك {أزكى لكم وأطهر}؛ وأطيب مما يظن الولي أن عدم تزويجه هو الرأي واللائق وأنه يقابل بطلاقه الأول بعدم تزويجه كما هو عادة المترفعين المتكبرين، فإن كان يظن أن المصلحة في عدم تزويجه. فالله {يعلم وأنتم لا تعلمون}؛ فامتثلوا أمر من هو عالم بمصالحكم، مريد لها قادر عليها، ميسر لها من الوجه الذي تعرفون وغيره.
وفي هذه الآية دليل على أنه لا بد من الولي في النكاح لأنه نهى الأولياء عن العضل، ولا ينهاهم إلا عن أمر هو تحت تدبيرهم ولهم فيه حق. ثم قال تعالى:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔