تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِنْعَزَمُواالطَّلَاقَ﴾”اور اگر وہ طلاق کا ارادہ کرلیں۔“ یعنی اگر وہ رجوع کرنے سے انکار کر دیں تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ انھیں ان میں رغبت نہیں اور وہ ان کو بیوی کے طور پر باقی رکھنا نہیں چاہتے۔۔۔ اور یہ چیز طلاق کے ارادے کے سوا کچھ نہیں۔۔۔ اگر یہ طلاق جو اس پر واجب ہے، کہنے سننے پر بیوی کو حاصل ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ حاکم اس کو طلاق پر مجبور کرے یا خود نافذ کر دے۔ ﴿ فَاِنَّاللّٰهَسَمِیْعٌعَلِیْمٌ ﴾”بے شک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے“ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت وعید اور تہدید ہے جو کوئی اللہ کی قسم اٹھاتا ہے اور اس کا مقصد محض ضرر رسانی اور تکلیف پہنچانا ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ اِیْلاَء بیوی سےمخصوص ہے کیونکہ اس میں مِنْنِّسَاءِھِمْ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ نیز چار ماہ میں ایک مرتبہ بیوی کے ساتھ مجامعت فرض ہے۔ کیونکہ چارماہ کے بعد یا تو اسے مجامعت پر مجبور کیا جائے گا یا اسے طلاق دینی پڑے گی۔ یہ جبر صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ کسی واجب کو ترک کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإن عزموا الطلاق}؛ أي امتنعوا من الفيئة فكان ذلك دليلاً على رغبتهم عنهن وعدم إرادتهم لأزواجهم، وهذا لا يكون إلا عزماً على الطلاق فإن حصل هذا الحق الواجب منه مباشرة وإلا أجبره الحاكم عليه أو قام به {فإن الله سميع عليم}؛ فيه وعيد وتهديد لمن يحلف هذا الحلف ويقصد بذلك المضارة والمشاقة.
ويستدل بهذه الآية على أن الإيلاء خاص بالزوجة لقوله من نسائهم، وعلى وجوب الوطء في كل أربعة أشهر مرة؛ لأنه بعد الأربعة يجبر إما على الوطء أو على الطلاق، ولا يكون ذلك إلا لتركه واجباً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔