تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 21

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾
اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ۔ En
لوگو! اپنے پروردگار کی عبات کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو
En
اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ تمام لوگوں کے لیے امر عام ہے۔ اور وہ اللہ کی عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت، اس کے نواہی سے اجتناب اور اس کی خبر کی تصدیق کی جامع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اس چیز کا حکم دیا جس کے لیے ان کی تخلیق کی گئی ہے۔ فرمایا: ﴿ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْ٘سَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذاریات: 51؍56) میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ میری عبادت کریں۔
پھر صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے پر اس بات سے استدلال کیا ہے کہ وہ تمھارا رب ہے اس نے تمھیں بہت سی نعمتوں سے نواز کر تمھاری تربیت اور پرورش کی۔ وہ تمھیں عدم سے وجود میں لایا۔ اس نے ان لوگوں کو پیدا کیا جو تم سے پہلے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا أمر عام لجميع الناس بأمر عام وهو العبادة الجامعة لامتثال أوامر الله واجتناب نواهيه وتصديق خبره، فأمرهم تعالى بما خلقهم له، قال تعالى: {وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون}؛ ثم استدل على وجوب عبادته وحده بأنه ربكم الذي رباكم بأصناف النعم، فخلقكم بعد العدم، وخلق الذين من قبلكم.