تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 209

فَاِنۡ زَلَلۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡکُمُ الۡبَیِّنٰتُ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۰۹﴾
پھر اگر اس کے بعد پھسل جائو کہ تمھارے پاس واضح دلیلیں آ چکیں تو جان لو کہ اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
پھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑاجاؤ تو جان جاؤ کہ خدا غالب (اور) حکمت والا ہے
En
اگر تم باوجود تمہارے پاس دلیلیں آجانے کے بھی پھسل جاؤ تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاِنْ زَلَلْتُمْ اگر تم پھسل جاؤ۔ یعنی اگر تم سے کوئی لغزش ہو جائے اور تم گناہ میں پڑ جاؤ ﴿ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ احکام روشن پہنچ جانے کے بعد یعنی علم اور یقین حاصل ہو جانے کے بعد ﴿ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ تو جان لو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔
اس آیت میں نہایت سخت وعید اور تخویف ہے جو لغزشوں کو ترک کرنے کی موجب ہے۔ کیونکہ جب نافرمان لوگ اس غالب اور حکمت والی ہستی کی نافرمانی کرتے ہیں تو وہ نہایت قوت کے ساتھ ان کو پکڑتی ہے اور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان کو سزا دیتی ہے کیونکہ نافرمانوں اور مجرموں کو سزا دینا اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فإن زللتم من بعد ما جاءتكم البينات}؛ أي: على علم ويقين، {فاعلموا أن الله عزيز حكيم}، وفيه من الوعيد الشديد والتخويف ما يوجب ترك الزلل، فإن العزيز المقام الحكيم إذا عصاه العاصي، قهره بقوته، وعذبه بمقتضى حكمته، فإن من حكمته تعذيب العصاة والجناة.