تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 193

وَ قٰتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ لِلّٰہِ ؕ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۹۳﴾
ان سے لڑو، یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر کوئی زیادتی نہیں۔ En
اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیئے)
En
ان سے لڑو جب تک کہ فتنہ نہ مٹ جائے اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب نہ آجائے، اگر یہ رک جائیں (تو تم بھی رک جاؤ) زیادتی تو صرف ﻇالموں پر ہی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے راستے میں اس قتال اور جہاد کا مقصد بیان فرمایا ہے۔ قتال فی سبیل اللہ کا مقصد یہ نہیں کہ کفار کا خون بہایا جائے اور ان کے اموال لوٹ لیے جائیں بلکہ جہاد کا مقصد صرف یہ ہے ﴿ وَّیَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ کہ دین اللہ کا ہو جائے یعنی اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آ جائے اور شرک وغیرہ اور ان تمام نظریات کا قلع قمع کر دیا جائے جو اللہ کے دین کے منافی ہیں اور فتنہ سے بھی یہی مراد ہے۔ جب یہ مقصد حاصل ہو جائے تو قتل کرنا اور لڑائی کرنا جائز نہیں۔ ﴿ فَاِنِ انْتَهَوْا پس اگر وہ باز آجائیں۔ یعنی اگر وہ مسجد حرام کے قریب تمھارے ساتھ لڑائی کرنے سے باز آ جائیں ﴿ فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں۔ یعنی تمھاری طرف سے ان پر کوئی ظلم اور زیادتی نہیں ہونی چاہیے، سوائے اس کے جس نے ظلم کا ارتکاب کیا ہو تو ایسا شخص اپنے ظلم کے برابر سزا کا مستحق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر تعالى المقصود من القتال في سبيله، وأنه ليس المقصود به سفك دماء الكفار وأخذ أموالهم، ولكن المقصود به أن {يكون الدين لله} تعالى، فيظهر دين الله تعالى على سائر الأديان، ويدفع كل ما يعارضه من الشرك وغيره وهو المراد بالفتنة، فإذا حصل هذا المقصود فلا قتل ولا قتال. {فإن انتهوا}؛ عن قتالكم عند المسجد الحرام، {فلا عدوان إلا على الظالمين}؛ أي: فليس عليهم منكم اعتداء إلا من ظلم منهم؛ فإنه يستحق المعاقبة بقدر ظلمه.