اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پائو اور انھیں وہاں سے نکالو جہاں سے انھوں نے تمھیں نکالا ہے اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو، یہاں تک کہ وہ اس میں تم سے لڑیں، پھر اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو، ایسے ہی کافروں کی جزا ہے۔
En
اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکے سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔ اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل وخونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کرڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے
انہیں مارو جہاں بھی پاؤ اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکاﻻ ہے اور (سنو) فتنہ قتل سے زیاده سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے لڑائی نہ کرو جب تک کہ یہ خود تم سے نہ لڑیں، اگر یہ تم سے لڑیں تو تم بھی انہیں مارو کافروں کا بدلہ یہی ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاقْتُلُوْهُمْحَیْثُثَقِفْتُمُوْهُمْ۠ ﴾”اور مار ڈالو ان کو جہاں کہیں بھی پاؤ تم ان کو“ یہ ان کے ساتھ قتال کا حکم ہے ہر وقت اور ہر زمانے میں جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں ان کے خلاف مدافعانہ اور جارحانہ جنگ جاری رہے۔ پھر اس عموم سے مسجد حرام کے قریب قتال کرنے کو مستثنیٰ کر دیا، کیونکہ مسجد حرام کے قریب لڑنا جائز نہیں، البتہ اگر وہ مسجد حرام کے قریب لڑائی کی ابتدا کریں تو پھر ان کے خلاف لڑائی کی جائے یہ ان کے ظلم و زیادتی کا بدلہ ہے۔
یہ کفار کے خلاف، ہر وقت اور دائمی قتال و جہاد ہے یہاں تک کہ وہ کفر کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیں۔ (اگر وہ ایسا کر لیں) تو یقینا اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اگرچہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، مسجد حرام میں شرک کا ارتکاب کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت اور اس کا کرم ہے، چونکہ مسجد حرام کے قریب لڑنے کی ممانعت سے یہ وہم لاحق ہوتا ہے کہ یہ لڑائی اس محترم شہر کے اندر گویا فساد برپا کرنا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس حرمت والے شہر کے اندر فتنہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے دین سے لوگوں کو روکنے کے مفاسد، قتل کے مفاسد سے بڑھ کر ہیں۔ لہٰذا اے مسلمانو! تمھارے لیے ان کے خلاف لڑنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس آیت کریمہ سے فقہ کے ایک مشہور قاعدہ پر استدلال کیا جاتا ہے کہ دو برائیوں میں سے (جب ایک برائی کو اختیار کرنا لابدی ہو تو) کم تر برائی کو اختیار کیا جائے۔ تاکہ بڑی برائی کا سدباب کیا جا سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{واقتلوهم حيث ثقفتموهم}؛ هذا أمر بقتالهم أينما وجدوا في كل وقت وفي كل زمان قتال مدافعة وقتال مهاجمة، ثم استثنى من هذا العموم قتالهم {عند المسجد الحرام}؛ وأنه لا يجوز إلا أن يَبْدَؤوا بالقتال فإنهم يُقَاتَلُون جزاء لهم على اعتدائهم، وهذا مستمر في كل وقت حتى ينتهوا عن كفرهم فيسلموا، فإن الله يتوب عليهم ولو حصل منهم ما حصل من الكفر بالله والشرك في المسجد الحرام وصد الرسول والمؤمنين عنه، وهذا من رحمته وكرمه بعباده. ولما كان القتال عند المسجد الحرام يتوهم أنه مفسدة في هذا البلد الحرام أخبر تعالى أن المفسدة بالفتنة عنده بالشرك والصد عن دينه أشد من مفسدة القتل، فليس عليكم أيها المسلمون حرج في قتالهم.
ويستدل في هذه الآية على القاعدة المشهورة وهي أنه يرتكب أخف المفسدتين لدفع أعلاهما.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔