تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 185

شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ ۚ فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ ؕ وَ مَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ یُرِیۡدُ اللّٰہُ بِکُمُ الۡیُسۡرَ وَ لَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ ۫ وَ لِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمۡ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾
رمضان کا مہینا وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ہدایت کی اور (حق و باطل میں) فرق کرنے کی واضح دلیلیں ہیں، تو تم میں سے جو اس مہینے میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے اور جو بیمار ہو یا کسی سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرنا ہے۔ اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اورتمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو، اس پر جو اس نے تمھیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو۔ En
(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو
En
ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے واﻻ ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ کا اراده تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں، وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ شَ٘هْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْ٘قُ٘رْاٰنُ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا۔ یعنی جو روزے تم پر فرض کیے ہیں وہ رمضان کے روزے ہیں، یہ ایک ایسا عظمت والا مہینہ ہے جس میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل حاصل ہوا، یعنی قرآن کریم جو تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف رہنمائی پر مشتمل ہے۔ جو حق کو نہایت وضاحت سے بیان کرتا ہے اور جو حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی اور خوش بخت اور بدبخت لوگوں کے درمیان پرکھ کرنے کی کسوٹی ہے۔ وہ مہینہ جس کی یہ فضیلت ہو جس میں تم پر اللہ تعالیٰ کا اس قدر احسان اور فضل ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ وہ بندوں کے لیے نیکیوں کا مہینہ بنے اور اس کے اندر روزے فرض کیے جائیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کو روزوں کے لیے مقرر کر دیا اور اس نے اس کی فضیلت اور روزوں کے لیے اس کو مختص کرنے کی حکمت کو واضح کر دیا، تو فرمایا: ﴿ فَ٘مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّ٘هْرَ فَلْیَصُمْهُ پس جو تم میں سے اس مہینے کو پا لے، تو وہ اس کے روزے رکھے اس آیت کریمہ میں یہ بات متعین کر دی گئی کہ ہر صحت مند شخص جو سفر میں نہ ہو اور روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہو وہ رمضان کے روزے رکھے۔
چونکہ نسخ کا تعلق اس اختیار سے ہے جو خاص طور پر روزہ رکھنے اور فدیہ دینے کے درمیان دیا گیا تھا، اس لیے مریض اور مسافر کے لیے رخصت کو دوبارہ بیان کر دیا گیا تاکہ اس وہم کا ازالہ ہو جائے کہ مریض اور مسافر کے لیے بھی رخصت منسوخ ہو گئی ہے۔ پس فرمایا: ﴿ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْ٘یُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْ٘عُسْرَ اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے، تم پر سختی کرنا نہیں چاہتا یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ تم پر اپنی رضا کے راستے حد درجہ آسان کر دے، اس لیے ان تمام امور کو جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے، اصل میں حد درجہ آسان بنایا ہے اور جب کوئی ایسا عارضہ پیش آجائے جو ان کی ادائیگی کو مشکل اور بوجھل بنا دے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک اور طرح سے آسان کر دیا۔ یا تو سرے سے اس فرض ہی کو ساقط کر دیا یا ان میں مختلف قسم کی تخفیفات سے نواز دیا۔ یہ اس (آسانی) کا اجمالاً ذکر ہے۔ یہاں تفاصیل بیان کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس کی تفاصیل تمام شرعیات کا احاطہ کیے ہوئے ہیں اور ان شرعیات میں تمام رخصتیں اور تخفیفات شامل ہیں۔
﴿ وَلِتُكْ٘مِلُوا الْعِدَّةَ اور تاکہ تم اس کی گنتی کو پورا کرو۔ اس آیت کریمہ کا مقصد یہ ہے۔ واللہ اعلم۔ کہ کوئی شخص اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ رمضان کے چند روزے رکھنے سے مقصود و مطلوب حاصل ہو سکتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں روزوں کی تکمیل کے حکم کے ذریعے سے اس وہم کا ازالہ کر دیا گیا، نیز حکم دیا گیا کہ روزوں کے مکمل ہونے پر بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق، سہولت اور تبیین کا شکر ادا کیا جائے۔ رمضان کے اختتام اور روزوں کے پورے ہونے پر تکبیریں کہی جائیں۔ اس حکم میں وہ تمام تکبیریں شامل ہیں جو شوال کا چاند دیکھ کر خطبہ عید سے فراغت تک کہی جاتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن}؛ أي: الصوم المفروض عليكم هو شهر رمضان الشهر العظيم الذي قد حصل لكم فيه من الله الفضل العظيم، وهو القرآن الكريم المشتمل على الهداية لمصالحكم الدينية والدنيوية وتبيين الحق بأوضح بيان، والفرقان بين الحق والباطل والهدى والضلال وأهل السعادة وأهل الشقاوة، فحقيق بشهر هذا فضله، وهذا إحسان الله عليكم فيه، أن يكون موسماً للعباد مفروضاً فيه الصيام، فلما قرره وبين فضيلته وحكمة الله تعالى في تخصيصه قال: {فمن شهد منكم الشهر فليصمه}؛ هذا فيه تعيين الصيام على القادر الصحيح الحاضر، ولما كان النسخ للتخيير بين الصيام والفداء خاصة، أعاد الرخصة للمريض والمسافر لئلا يتوهم أن الرخصة أيضاً منسوخة فقال: {يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر}؛ أي: يريد الله تعالى أن ييسر عليكم الطرق الموصلة إلى رضوانه أعظم تيسير ويسهلها أبلغ تسهيل، ولهذا كان جميع ما أمر الله به عباده في غاية السهولة في أصله، وإذا حصلت بعض العوارض الموجبة لثقله؛ سهله تسهيلاً آخر إما بإسقاطه أو تخفيفه بأنواع التخفيفات، وهذه جملة لا يمكن تفصيلها، لأن تفاصيلها جميع الشرعيات، ويدخل فيها جميع الرخص والتخفيفات.

{ولتكملوا العدة}؛ وهذا والله أعلم لئلا يتوهم متوهم أن صيام رمضان يحصل المقصود منه ببعضه، دفع هذا الوهم بالأمر بتكميل عدته، ويشكر الله تعالى عند إتمامه على توفيقه وتسهيله وتبيينه لعباده وبالتكبير عند انقضائه، ويدخل في ذلك التكبير عند رؤية هلال شوال إلى فراغ خطبة العيد.