تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 174

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ یَشۡتَرُوۡنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۙ اُولٰٓئِکَ مَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۚۖ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۴﴾
بے شک جو لوگ چھپاتے ہیں جو اللہ نے کتاب میں سے اتارا ہے اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں، یہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں کھا رہے اور نہ اللہ ان سے قیامت کے دن بات کرے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ En
جو لوگ (خدا) کی کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن نہ کلام کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا۔اور ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے
En
بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں، یقین مانو کہ یہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے جو علم اپنے رسولوں پر نازل فرمایا اور لوگوں پر اس علم کو واضح کرنے اور اس کو نہ چھپانے کا اہل علم سے وعدہ لیا۔ اس علم کو جو لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس میں ان کو سخت وعید سنائی ہے۔ پس جو لوگ اس علم کے عوض دنیاوی مال و متاع سمیٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیتے ہیں۔ انھی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا یَ٘اْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ یہ اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں کیونکہ یہ قیمت جو انھوں نے (آیات الٰہی کے عوض) کمائی ہے یہ انھیں بدترین اور انتہائی حرام طریقے سے حاصل ہوئی ہے، لہٰذا ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی۔ ﴿ وَلَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اور قیامت کے دن اللہ ان سے کلام نہیں فرمائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہو گا اور ان سے منہ پھیر لے گا۔ پس یہ چیز ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہو گی۔ ﴿ وَلَا یُزَؔكِّیْهِمْ اور نہ ان کو پاک کرے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اخلاق رذیلہ سے پاک نہیں کرے گا اس لیے کہ ان کے اعمال ایسے نہیں ہوں گے جو مدح، رضائے الٰہی اور جزا کے قابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ انھیں اس لیے پاک نہیں کرے گا، کیونکہ انھوں نے عدم تزکیہ کے اسباب اختیار کیے۔ تزکیہ کا سب سے بڑا سبب کتاب اللہ پر عمل کرنا، اس کو راہنما بنانا اور اس کی طرف دعوت دینا ہے۔ پس انھوں نے کتاب اللہ کو دور پھینک دیا، اس سے روگردانی کی، ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اور مغفرت کو چھوڑ کر عذاب کو اختیار کیا۔ پس یہ لوگ جہنم ہی کے قابل ہیں۔ یہ جہنم کی آگ پر کیسے صبر کریں گے اور اس کی آگ کو کیسے برداشت کر سکیں گے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا وعيد شديد لمن كتم ما أنزل الله على رسله من العلم الذي أخذ الله الميثاق على أهله أن يبينوه للناس ولا يكتموه، فمن تعوض عنه بالحطام الدنيوي ونبذ أمر الله فأولئك {ما يأكلون في بطونهم إلا النار}؛ لأن هذا الثمن الذي اكتسبوه إنما حصل لهم بأقبح المكاسب وأعظم المحرمات، فكان جزاؤهم من جنس عملهم، {ولا يكلمهم الله يوم القيامة}؛ بل قد سخط عليهم وأعرض عنهم، فهذا أعظم عليهم من عذاب النار، {ولا يزكيهم}؛ أي: لا يطهرهم من الأخلاق الرذيلة، وليس لهم أعمال تصلح للمدح والرضا والجزاء عليها، وإنما لم يزكهم لأنهم فعلوا أسباب عدم التزكية التي أعظم أسبابها العمل بكتاب الله والاهتداء به والدعوة إليه، فهؤلاء نبذوا كتاب الله وأعرضوا عنه واختاروا الضلالة على الهدى والعذاب على المغفرة فهؤلاء لا يصلح لهم إلا النار، فكيف يصبرون عليها؟ وأنَّى لهم الجلد عليها؟