تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 156

الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿۱۵۶﴾ؕ
وہ لوگ کہ جب انھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے توکہتے ہیں بے شک ہم اللہ کے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ En
ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
En
جنہیں، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌوہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو قلب، بدن یا دونوں کو تکلیف پہنچائے۔ جس کا ذکر پہلے گزرا۔ ﴿قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ ہی کی ملکیت ہیں۔ یعنی وہ پکار اٹھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، اسی کے دست تدبیر اور اسی کے تصرف کے تحت ہیں، پس ہماری جانوں اور ہمارے مال میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔
جب اللہ تعالیٰ ہمیں کسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ، جس کی ذات سب سے زیادہ رحم کرنے والی ہے، درحقیقت اپنے غلاموں اور ان کے مال میں تصرف کرتا ہے اس لیے مالک پر اعتراض کی مجال نہیں بلکہ بندۂ مومن کا کمال عبودیت اس کا یہ جان لینا ہے کہ اس پر جو مصیبت آن پڑی ہے وہ اس کے حکمت والے مالک کی طرف سے ہے جو اپنے بندے پر خود اس بندے سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، تب یہ چیز بندے کو اللہ تعالیٰ پر راضی اور اس کی اس تدبیر پر شکر گزار رکھتی ہے کہ اس نے اپنے بندے کے لیے وہی چیز اختیار کی جو اس کے لیے بہتر تھی، اگرچہ بندے کو اس کا شعور بھی نہ تھا۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں پس قیامت کے روز ہم نے لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس ہی حاضر ہونا ہے۔ اور ہر شخص کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا اگر ہم صبر کریں اور اجر کی امید رکھیں تو ہم اس کے ہاں اپنے اجر و ثواب کو وافر پائیں گے اور اگر ہم بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ناراض ہوں گے تو ہمیں ناراضی اور اجر کی محرومی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ پس بندے کا اللہ کی ملکیت ہونا اور اس کا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا صبر کا سب سے طاقتور سبب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{الذين إذا أصابتهم مصيبة}؛ وهي كل ما يؤلم القلب أو البدن أو كليهما مما تقدم ذكره، {قالوا إنا لله}؛ أي: مملوكون لله مدبرون تحت أمره وتصريفه فليس لنا من أنفسنا وأموالنا شيء، فإذا ابتلانا بشيء منها فقد تصرف أرحم الراحمين بمماليكه وأموالهم فلا اعتراض عليه، بل من كمال عبودية العبد علمه بأن وقوع البلية من المالك الحكيم الذي هو أرحم بعبده من نفسه، فيوجب له ذلك الرِّضا عن الله والشكر له على تدبيره لما هو خير لعبده وإن لم يشعر بذلك، ومع أننا مملوكون لله فإنا إليه راجعون يوم المعاد، فمجازٍ كل عامل بعمله، فإن صبرنا واحتسبنا وجدنا أجرنا موفراً عنده، وإن جزعنا وسخطنا لم يكن حظنا إلا السخط وفوات الأجر، فكون العبد لله وراجعاً إليه من أقوى أسباب الصبر.