اور تو جہاں سے نکلے سو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لے اور بلاشبہ یقینا یہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ ہرگز اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔
En
اور تم جہاں سے نکلو، (نماز میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کر لیا کرو بےشک وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو۔ خدا اس سے بے خبر نہیں
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَمِنْحَیْثُخَرَجْتَ﴾”جہاں سے بھی آپ نکلیں“ یعنی اپنے سفر وغیرہ میں۔ یہ عموم کے لیے ہے ﴿فَوَلِّوَجْهَكَشَطْرَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ﴾”پس اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام امت کو عمومی طور پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {ومن حيث خرجت}؛ في أسفارك وغيرها وهذا للعموم، {فولِّ وجهك شطر المسجد الحرام}؛ أي: جهته. ثم خاطب الأمة عموماً فقال:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔