تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 134

تِلۡکَ اُمَّۃٌ قَدۡ خَلَتۡ ۚ لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَ لَکُمۡ مَّا کَسَبۡتُمۡ ۚ وَ لَا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۳۴﴾
یہ ایک امت تھی جو گزر چکی، اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم نے کمایا اور تم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ En
یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
En
یہ جماعت تو گزر چکی، جو انہوں نے کیا وه ان کے لئے ہے اور جو تم کرو گے تمہارے لئے ہے۔ ان کے اعمال کے بارے میں تم نہیں پوچھے جاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿تِلْكَ اُمَّؔةٌ قَدْ خَلَتْ یعنی وہ امت گزر گئی ﴿لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم کماؤ گے یعنی ہرشخص کا اپنا عمل ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کے فعل کی جزا دے گا۔ وہ کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کے گناہوں کی وجہ سے مواخذہ نہیں کرے گا اور کسی شخص کو صرف اس کا اپنا ایمان اور تقویٰ ہی کام دے گا۔ پس تمھارا اس زعم میں مبتلا ہونا اور تمھارا یہ دعویٰ کہ تم ان انبیاء علیہم السلام کی ملت پر ہو مجرد دعویٰ اور ایک ایسا معاملہ ہے جو حقیقت سے خالی ہے، بلکہ تم پر فرض ہے کہ تم اپنی موجودہ حالت پر غور کرو۔ کیا یہ نجات دلانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{تلك أمة قد خلت}؛ أي: مضت {لها ما كسبت ولكم ما كسبتم}؛ أي: كلٌّ له عمله، وكلٌّ سيجازى بما فعله، لا يُؤَاخذ أحد بذنب أحد، ولا ينفع أحداً إلا إيمانه وتقواه، فاشتغالكم بهم وادعاؤكم أنكم على ملتهم والرضا بمجرد القول أمر فارغ لا حقيقة له، بل الواجب عليكم أن تنظروا حالتكم التي أنتم عليها هل تصلح للنجاة أم لا؟