تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 121

اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَتۡلُوۡنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۲۱﴾٪
وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی ہے، اسے پڑھتے ہیں جیسے اسے پڑھنے کا حق ہے، یہ لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کوئی اس کے ساتھ کفر کرے تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ En
جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے، وہ اس کو (ایسا) پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ یہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں، اور جو اس کو نہیں مانتے، وہ خسارہ پانے والے ہیں
En
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وه اسے پڑھنے کے حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، وه اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کرے وه نقصان واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب عطا کی اور کتاب عطا کر کے ان پر احسان کیا ہے ﴿ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ تلاوت کرنے کا حق ہے۔ یعنی اس کی اتباع کرتے ہیں جیسا کہ اتباع کرنے کا حق ہے۔ یہاں (تلاوت) سے مراد اتباع ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے حلال ٹھہرائے ہوئے امور کو حلال اور اس کے حرام ٹھہرائے ہوئے امور کو حرام سمجھتے ہیں۔ اس کی محکمات پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور اس کی متشابہات پر ایمان لاتے ہیں۔ اہل کتاب میں سے یہی وہ لوگ ہیں جو خوش بخت ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانا اور اس کے شکر گزار ہوئے جو تمام رسولوں پر ایمان لائے اور انھوں نے ان رسولوں کے مابین تفریق نہ کی۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں نہ کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں ﴿ نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَیَكْ٘فُ٘رُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ (البقرۃ: 2؍91) جو کتاب ہم پر نازل کی گئی ہم تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے علاوہ دوسری کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَنْ یَّكْ٘فُ٘رْ بِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْ٘خٰؔسِرُوْنَ جو کوئی اس کا انکار کرے گا پس یہی لوگ گھاٹے میں پڑنے والے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أن الذين آتاهم الكتاب ومنَّ عليهم به منِّة مطلقة أنهم {يتلونه حق تلاوته}؛ أي: يتبعونه حق اتباعه، والتلاوة الاتِّباع، فيحلون حلاله، ويحرمون حرامه، ويعملون بمحكمه، ويؤمنون بمتشابهه، وهؤلاء هم السعداء من أهل الكتاب الذين عرفوا نعمة الله وشكروها، وآمنوا بكل الرسل ولم يفرقوا بين أحد منهم، فهؤلاء هم المؤمنون حقًّا لا من قال منهم نؤمن بما أنزل علينا ويكفرون بما وراءه، ولهذا توعدهم بقوله: {ومن يكفر به فأولئك هم الخاسرون}.