تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 117

بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۱۱۷﴾
آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے بس یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔ En
(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے.
En
وه زمین اور آسمانوں کا ابتداءً پیدا کرنے واﻻ ہے، وه جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، بس وه وہیں ہوجاتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر فرمایا: ﴿ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو بغیر کسی سابقہ مثال کے نہایت مضبوط اور بہترین طریقے سے تخلیق کیا ہے۔ ﴿وَاِذَا قَ٘ضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُ٘نْ فَیَكُ٘وْنُ وہ جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا بس وہ ہو جاتا ہے یعنی کوئی چیز اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی اور کسی چیز کو اس کے سامنے انکار کرنے کی مجال نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{بديع السموات والأرض}؛ أي: خالقهما على وجه قد أتقنهما وأحسنهما على غير مثال سبق، {وإذا قضى أمراً فإنما يقول له كن فيكون}؛ فلا يستعصي عليه ولا يمتنع منه.