تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 1

الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾
الم۔ En
الم
En
الم En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بعض سورتوں کی ابتدا میں جو حروف مقطعات آئے ہیں ان کے بارے میں محتاط اور محفوظ مسلک یہ ہے کہ بغیر کسی شرعی دلیل کے ان کے معانی معلوم کرنے کے لیے تعرض نہ کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ عقیدہ بھی رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے حروف مقطعات کو بے فائدہ نازل نہیں فرمایا بلکہ ان کے نازل کرنے میں کوئی حکمت پنہاں ہے جو ہمارے علم کی دسترس سے باہر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأما الحروف المقطَّعة في أوائل السورة ؛ فالأسلم فيها السكوت عن التعرُّض لمعناها من غير مستند شرعي، مع الجزم بأن الله تعالى لم ينزلها عبثاً، بل لحكمة لا نعلمها.