تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَلَاتَعْجَلْعَلَیْهِمْ ﴾ یعنی آپ ان کفار کے بارے میں عجلت نہ کیجیے جو عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ ﴿ اِنَّمَانَعُدُّلَهُمْعَدًّا﴾”ہم تو خود ہی ان کے لیے (مدت) شمار کر رہے ہیں۔“ یعنی ان کے لیے دن مقرر کر دیے گئے ہیں جن میں کوئی تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔ ہم انھیں کچھ مدت کے لیے مہلت دے کر برد باری سے کام لے رہے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ جب اس مہلت کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو ہم اسے ایک غالب اور مقتدر ہستی کی طرح اپنی گرفت میں لے لیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلا تَعْجَلْ عليهم}؛ أي: على هؤلاء الكفار المستعجلين بالعذاب، {إنَّما نَعُدُّ لهم عدًّا}؛ أي: إنَّ لهم أياماً معدودةً؛ لا يتقدَّمون عنها ولا يتأخَّرون، نُمْهِلُهم ونحلم عنهم مدَّة ليراجِعوا أمر الله؛ فإذا لم ينجَعْ فيهم ذلك؛ أخذْناهم أخذ عزيز مقتدر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔