تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 84

فَلَا تَعۡجَلۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَہُمۡ عَدًّا ﴿ۚ۸۴﴾
پس تو ان پر جلدی نہ کر، ہم تو بس ان کے لیے گن رہے ہیں، اچھی طرح گننا۔ En
تو تم ان پر (عذاب کے لئے) جلدی نہ کرو۔ اور ہم تو ان کے لئے (دن) شمار کر رہے ہیں
En
تو ان کے بارے میں جلدی نہ کر، ہم تو خود ہی ان کے لئے مدت شماری کر رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ یعنی آپ ان کفار کے بارے میں عجلت نہ کیجیے جو عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ ﴿ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا ہم تو خود ہی ان کے لیے (مدت) شمار کر رہے ہیں۔ یعنی ان کے لیے دن مقرر کر دیے گئے ہیں جن میں کوئی تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔ ہم انھیں کچھ مدت کے لیے مہلت دے کر برد باری سے کام لے رہے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ جب اس مہلت کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو ہم اسے ایک غالب اور مقتدر ہستی کی طرح اپنی گرفت میں لے لیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلا تَعْجَلْ عليهم}؛ أي: على هؤلاء الكفار المستعجلين بالعذاب، {إنَّما نَعُدُّ لهم عدًّا}؛ أي: إنَّ لهم أياماً معدودةً؛ لا يتقدَّمون عنها ولا يتأخَّرون، نُمْهِلُهم ونحلم عنهم مدَّة ليراجِعوا أمر الله؛ فإذا لم ينجَعْ فيهم ذلك؛ أخذْناهم أخذ عزيز مقتدر.