تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 80

وَّ نَرِثُہٗ مَا یَقُوۡلُ وَ یَاۡتِیۡنَا فَرۡدًا ﴿۸۰﴾
اور ہم اس کے وارث ہوں گے ان چیزوں میں جو یہ کہہ رہا ہے اور یہ اکیلا ہمارے پاس آئے گا۔ En
اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا
En
یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے۔ اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہوگا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَّنَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ اور ہم وارث ہوں گے اس کے جس کی بابت وہ کہہ رہا ہے۔ یعنی ہم اس کے مال اور اولاد کے وارث ہوں گے، چنانچہ وہ مال، اہل و عیال اور اعوان و انصار کے بغیر اس دنیا سے آخرت کے گھر کی طرف منتقل ہو گا ﴿ وَیَ٘اْتِیْنَا فَرْدًا اور آئے گا وہ ہمارے پاس اکیلا ہی۔ پس وہ بدترین عذاب کا سامنا کرے گا جو اس جیسے ظالم لوگوں کی سزا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ونَرِثُهُ ما يقولُ}؛ أي: نرثه ماله وولده، فينتقلُ من الدُّنيا فرداً بلا مال ولا أهل ولا أنصارٍ ولا أعوان، {ويأتينا فرداً}: فيرى من وخيم العقابِ ما هو جزاءُ أمثالِهِ من الظالمين.