تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
کیا اس کافر کی حالت پر تعجب نہیں ہوتا جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کو اپنے بہت بڑے دعوے کے ساتھ یکجا کر دیا ہے کہ اس کو آخرت میں بھی مال و اولاد سے نوازا جائے گا، یعنی وہ اہل جنت میں سے ہو گا۔ اس کا یہ دعویٰ سب سے زیادہ تعجب انگیز امور میں سے ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا ہوتا اور پھر یہ دعوی کرتا تو معاملہ آسان تھا۔ یہ آیت کریمہ اگرچہ کسی معین کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے تاہم یہ ہر کافر کو شامل ہے جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ اہل جنت میں سے ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: أفلا تعجبُ من حالة هذا الكافر الذي جمع بين كفره بآيات الله ودعواه الكبيرة أنه سيُؤتى في الآخرة مالاً وولداً؛ أي: يكون من أهل الجنة، هذا من أعجب الأمور؛ فلو كان مؤمناً بالله وادَّعى هذه الدَّعوى؛ لسهل الأمر.
وهذه الآية وإنْ كانت نازلةً في كافرٍ معيَّن ؛ فإنَّها تشمل كلَّ كافرٍ زعم أنَّه على الحقِّ، وأنَّه من أهل الجنة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔