تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 66

وَ یَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ ءَ اِذَا مَا مِتُّ لَسَوۡفَ اُخۡرَجُ حَیًّا ﴿۶۶﴾
اور انسان کہتا ہے کیا جب میں مرگیا تو کیا واقعی عنقریب مجھے زندہ کر کے نکالا جائے گا؟ En
اور (کافر) انسان کہتا ہے کہ جب میں مر جاؤ گا تو کیا زندہ کرکے نکالا جاؤں گا؟
En
انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا پھر زنده کر کے نکالا جاؤں گا؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہاں (الانسان) سے مراد ہر وہ شخص ہے جو زندگی بعد موت کا منکر ہے اور وہ مرنے کے بعد زندہ کیے جانے کو بعید سمجھتا ہے، چنانچہ وہ نفی، عناد اور کفر کی وجہ سے استفہامیہ اسلوب میں کہتا ہے: ﴿ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا یعنی میرے مرنے کے بعد، جبکہ میں بوسیدہ ہو چکا ہوں گا، اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ کیسے زندہ کرے گا؟ ایسا نہیں ہو سکتا اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اس کی عقل فاسد، برے مقصد، اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور کتابوں کے ساتھ اس کے عناد کے مطابق ہے۔ اگر اس نے تھوڑا سا بھی غوروفکر کیا ہوتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ اس کا دوبارہ زندہ کیے جانے کو بعید سمجھنا بہت بڑی حماقت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

المراد بالإنسان هاهنا كلُّ منكرٍ للبعث مستبعدٍ لوقوعه؛ فيقولُ مستفهماً على وجه النفي والعناد والكفر: {أإذا ما مِتُّ لسوفَ أُخْرَجُ حيًّا}؛ أي: كيف يعيدني الّله حيًّا بعد الموت وبعد ما كنتُ رميماً؟! هذا لا يكون ولا يُتَصَوَّر! وهذا بحسب عقله الفاسد ومقصده السيئ وعنادِهِ لرسل الله وكتبِهِ؛ فلو نَظَرَ أدنى نَظَرٍ وتأمَّل أدنى تأمُّل؛ لرأى استبعاده للبعث في غاية السخافة.